قومی تعلیمی پالیسی کے نقائص کو دور کرنے کی ضرورت : ونود کمار

   

کئی ریاستوں کو پالیسی پر اعتراض، حیدرآباد میں نیشنل ایجوکیشن ایکسپو کا آغاز

حیدرآباد۔/26 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کو قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں ریاستوں کے شبہات دور کرنے کے اقدامات کرنے چاہیئے کیونکہ کئی ریاستوں نے قومی تعلیمی پالیسی میں شامل نکات پر اعتراضات جتائے ہیں۔ نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مادھا پور میں نیشنل ایجوکیشن ایکسپو، اسکول لیڈر شپ سمٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی پر ملک میں من و عن عمل آوری ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو عمل آوری سے قبل پالیسی کے بارے میں ریاستوں کو وضاحت کرنی چاہیئے۔ قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں تلنگانہ کی جانب سے مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کو تجاویز پیش کی جاچکی ہیں۔ تلنگانہ نیکئی معاملات میں ترمیمات کی سفارش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کیلئے قومی سطح پر تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے تیار کردہ پالیسی غیر واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو پالیسی پر عمل آوری کی ذمہ داری دیئے جانے سے قبل مرکز کو ریاستوں کے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال نے کئی شعبوں کو متاثر کیا ہے جن میں سب سے زیادہ تعلیمی شعبہ متاثر رہا۔ انہوں نے مرکز اور ریاست سے مطالبہ کیا کہ 2022-23 کو نقصانات کی پابجائی کے سال کے طور پر اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی میں تیزی سے اضافہ کو دیکھتے ہوئے پرائمری سطح پر اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین تعلیم نے جو سفارشات پیش کی ہیں ان کا حکومت جائزہ لے گی۔ وائی شیکھر راؤ نے خیرمقدم کیا جبکہ سکریٹری مدھو سدن نے رپورٹ پیش کی۔ ایکسپو میں سینکڑوں کی تعداد میں تعلیمی اداروں نے اپنے اسٹالس قائم کئے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کی رہنمائی کیلئے تعلیمی اسٹالس کارآمد ثابت ہوں گے۔ ونود کمار نے کئی اسٹالس کا معائنہ کیا اور ستائش کی۔ دہلی، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں کے مندوبین ایکسپو میں شریک ہیں ۔ ر