قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کی مساعی خوش آئند : ڈاکٹر نارائنا

   

20 تا 30 ستمبر ملک بھر میں احتجاج، ٹی آر ایس کو احتجاج میں شامل ہونے کا مشورہ
حیدرآباد 23 اگسٹ (سیاست نیوز) سی پی آئی قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے قومی سطح پر کانگریس کی زیرقیادت اپوزیشن اتحاد کی مساعی کا خیرمقدم کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جمہوریت، دستور اور سیکولرازم کے تحفظ کیلئے 19 اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر سطح پر متحدہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کے نارائنا نے کہاکہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے حالیہ دنوں میں اپوزیشن قائدین کے ساتھ ورچول اجلاس منعقد کیا جس مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف متحدہ پالیسی طے کی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ 20 تا 30 ستمبر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملک گیر سطح پر مہم چلائی جائے گی جس کا مقصد مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی مذمت اور عوام کو حقیقی صورتحال سے واقف کرانا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ تلنگانہ میں سی پی آئی یونٹ ہمخیال جماعتوں سے مشاورت کے بعد ریاست گیر احتجاج منظم کرے گا۔ اُنھوں نے مرکزی وزیر کشن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ وہ عوامی مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں جبکہ ٹی آر ایس سے بی جے پی کی ملی بھگت ہے۔ جنا آشیرواد یاترا کے نام پر کشن ریڈی عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم نریندر مودی اور پارلیمنٹ کے باہر مرکزی وزراء عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے ریمارک کیاکہ طالبان جتنے نقصاندہ ہیں اتنا ہی پیگاسیس جاسوسی معاملہ ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ اُنھوں نے اسرائیل کی خفیہ تنظیموں کے ساتھ کئے گئے معاہدات کو عوام کے روبرو پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ نارائنا نے کہاکہ مرکز کی جانب سے منظورہ تینوں زرعی قوانین پر عمل آوری سے کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ ہوگا۔ ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے ٹی آر ایس سے اپیل کی کہ وہ 20 ستمبر سے اپوزیشن کے احتجاج میں شمولیت اختیار کرے کیونکہ مودی حکومت کی پالیسیاں عوام کے حق میں نہیں ہیں۔ جمہوریت، سیکولرازم اور دستور کے تحفظ کیلئے عوام کو متحد ہونا چاہئے۔ سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ نے اپوزیشن اتحاد کو خوش آئند اور سیکولرازم اور دستور کے تحفظ کی سمت اہم پیشرفت قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نے 15 اگسٹ کو لال قلعہ سے خطاب میں عوام کو جوڑنے کے بجائے نفرت کی بنیاد پر توڑنے کی کوشش کی ہے۔ تقسیم ہند کے واقعات کو دوہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ R