کانگریس کو یکا و تنہا کرنے کی حکمت عملی ۔ مخالف بی جے پی محاذ بھی دو حصوں میں بٹ جانے کے اندیشے ۔چیف منسٹر تلنگانہ کی حکمت عملی تبدیل
حیدرآباد۔9 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ قومی سیاست میں نئے محاذ کی تشکیل کے متعلق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے لگے ہیں ! 2019 عام انتخابات سے قبل چندر شیکھر راؤ نے فیڈرل فرنٹ کا نظریہ پیش کرکے مختلف ریاستوں کا دورہ کیا تھا اور جن مخالف بی جے پی قائدین سے انہوں نے ملاقاتیں کی تھیں ان میں اہم ترنمول کانگریس سربراہ و چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی شامل تھیں لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران صورتحال میں تبدیلی اور اب ممتا بنرجی کی جانب سے مخالف کانگریس و مخالف بی جے پی محاذ کی تشکیل کے اقدامات تیز ہوچکے ہیں اور وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ترنمول کانگریس ٹکٹ پر امیدوار میدان میں اتارنے کے علاوہ اتحاد کی کوششیں کررہی ہیں ایسے میں چیف منسٹر تلنگانہ کی کمیونسٹ جماعت کے چیف منسٹر کیرالا پی وجئین سے ملاقات اور بات چیت کے بعد کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ مخالف کانگریس اور مخالف بی جے پی محاذ بھی دو حصوں میں منقسم ہوسکتا ہے اور کانگریس کو یکا و تنہاکیا جائیگا۔چیف منسٹر تلنگانہ اور چیف منسٹر کیرالا کی ملاقات کو قومی سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت دی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ بائیں بازو جماعتو ں اور تلنگانہ راشٹرسمیتی کے درمیان اتحاد پر بات چیت ہوئی ہے اور بائیں بازو جماعتیں اگر علاقائی جماعتوں سے متحدہ طور پر مخالف بی جے پی محاذ کی تشکیل کے اقدامات کرتی ہیں تو قومی سطح پر کانگریس یکا و تنہاء ہوجائے گی اور مخالف بی جے پی محاذ دو حصوں میں منقسم ہوجائے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی کمیونسٹ قائدین سے قربت سربراہ ترنمول کانگریس و چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی سے دوری کا سبب بن سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور نظریہ بھی پیش کیا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ کمیونسٹ جماعتوں کی کے سی آر سے قربت بائیں بازو جماعتوں اور ترنمول کے درمیان ثالثی کا سبب بھی بن سکتی ہے کیونکہ کمیونسٹ جماعتوں کی ترنمول سے دوریوں کے باوجود دونوں ہی مخالف بی جے پی محاذ یو پی اے کا حصہ رہ چکے ہیں ۔کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کی جانب سے گذشتہ ماہ دہلی میں یو پی اے میں شامل اور ہم خیال جماعتوں کے اجلاس میں ممتا بنرجی کو مدعو نہ کرنے اور ممتا بنرجی کی این سی پی سربراہ سے ملاقات پر بھی کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ۔ حیدرآباد میں چیف منسٹر کیرالا کی چیف منسٹر تلنگانہ سے ملاقات اور اس موقع پر سی پی ایم کے سرکردہ قائدین کی موجودگی کے بعد کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی بائیں بازو جماعتوں کے علاوہ مخالف کانگریس اور مخالف بی جے پی اتحاد کی تشکیل کی سمت پیشرفت کرسکتی ہے اور اس کیلئے ملک کی بیشتر ریاستوں میں علاقائی جماعتوں اور کمیونسٹ نظریات سے متاثر جماعتوں کو اتحاد میں شامل کرنے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔دونوں چیف منسٹرس اور جماعتوں کے قائدین کی ملاقات نے برسراقتدار بی جے پی کے علاوہ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین میں الجھن پیدا کردی ہے کیونکہ دونوں مخالف بی جے پی ریاستوں کے سربراہان کی ملاقات کے بعد ملک کے سیاسی مستقبل اور نئے اتحاد کی تشکیل کے سلسلہ میں کوئی اظہار خیال نہیں کیا گیا اور مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔م