قومی سطح پر یکساں زرعی پالیسی کیلئے کسان تنظیموں کو متحد ہونے کا مشورہ

   


26 ریاستوں کے کسان قائدین سے چیف منسٹر کے سی آر کی دوسرے دن بھی مشاورت، تلنگانہ کی زرعی پالیسی سے بے حد متاثر
حیدرآباد۔/28 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پرگتی بھون میں26 ریاستوں سے آئے ہوئے کسان تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ آج دوسرے دن بھی اجلاس جاری رکھا۔ کسانوں کے نمائندوں نے زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی بھلائی کیلئے تلنگانہ حکومت کی اسکیمات اور پالیسیوں پر ملک بھر میں عمل آوری کی ضرورت پر زور دیا۔ کسان قائدین کا احساس تھا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک میں زرعی شعبہ متاثر ہوا ہے اور کسان دن بہ دن مسائل کا شکار ہیں۔ قومی سطح پر کسانوں کو بحران سے بچانے کیلئے حکمت عملی طئے کی جاسکتی ہے۔ کسانوں کی تنظیموں کے قائدین نے ملک بھر کے کسانوں کو متحد کرنے کیلئے حکمت عملی طئے کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے سی آر سے قیادت کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے نمائندے بھی گزشتہ دو دن سے تلنگانہ حکومت کے مہمان ہیں اور کے سی آر نے کل دن بھر اجلاس منعقد کیا تھا اور یہ اجلاس آج دوسرے دن بھی جاری رہا۔ کسان نمائندوں کو کے سی آر نے قومی سطح پر یکساں زرعی پالیسی کی تجویز پیش کی اور کہا کہ مرکز کو مخالف کسان فیصلوں سے روکنے کیلئے کسانوں میں اتحاد ضروری ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ شعور بیداری کے ذریعہ ملک کے کسانوں کو اپنے حقوق کی جدوجہد کیلئے تیار کیا جاسکتا ہے۔ کے سی آر نے فصلوں کی کاشت کے بارے میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی رہنمائی سے واقف کرایا اور کہا کہ صرف ایسی فصلوں کی ترغیب دی جاتی ہے جن سے کسانوں کو بہتر آمدنی ہو۔ چیف منسٹر نے مرکز کی جانب سے دھان کی خریدی سے انکار کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور حکومت کی بروقت مداخلت کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ کسانوں کے نمائندے مختلف آبپاشی پراجکٹس کا معائنہ کریں گے اور بعض اضلاع میں کسانوں سے ملاقات کریں گے۔ر