قومی شاہراہوں کی تعمیر کے سلسلہ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی شکایت،13 پراجکٹس کا کام فوری شروع کیا جائے،

   

قومی شاہراہوں کی تعمیر کے سلسلہ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی شکایت،13 پراجکٹس کا کام فوری شروع کیا جائے، مرکزی وزیر نتن گڈکری کو ونودکمار کا مکتوب
حیدرآباد۔ تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین بی ونود کمار نے قومی شاہراہوں کی تعمیر کے سلسلہ میں تلنگانہ کو نظرانداز کئے جانے کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز نتن گڈکری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں منظورہ 13 قومی شاہراہوں کا کام فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے یہ منظوری دی گئی تھی۔ ونود کمار نے کہا کہ ریاست کیلئے 12 نئی قومی شاہراہوں کی منظوری مرکز کے پاس زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد، میدک، ردرور، بودھن، باسر جنکشن پر NH61 ، نظام آباد، نارائن کھیڑ، بیدر، مدنور، بودھن کے بشمول 13 قومی شاہراہوں کو منظوری دی گئی تھی جو 1531 کیلو میٹر کا احاطہ کرتے ہیں۔ ظہیرآباد، بیدر، مریال گوڑہ، نرسا راؤ پیٹ، تانڈور، کوڑنگل، محبوب نگر کے علاوہ میدک، سدی پیٹ، ایلکا ترتی اُن 12 قومی شاہراہوں کے پراجکٹ میں شامل ہیں جس کے تحت 1601 کیلو میٹر کا احاطہ کیا جاسکتا ہے لیکن 2014 سے ان پراجکٹس کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے دورہ دہلی کے موقع پر ہمیشہ اس سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی۔ مرکزی وزیر کو ریاست میں سڑکوں کی ناقص صورتحال کے بارے میں کئی مکتوب روانہ کئے گئے۔ ونود کمار نے کہا کہ دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ انہوں نے کئی بار مرکزی وزیر سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کے 25 نئے پراجکٹس کی تفصیلی رپورٹ حوالہ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے ابھی تک1531 کیلو میٹر کی منظوری دی ہے جبکہ 1601 کیلو میٹر کی قومی شاہراہ کی منظوری باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کی منظوری کے نام پر تلنگانہ کے 12 پراجکٹس کے کام کو روک دیا گیا ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ کیلئے نئی شاہراہوں کی منظوری دی گئی تھی۔