لندن : سابق وزیر اعظم کے مطابق جنرل باجوہ اور فیض حمید نے دو ججوں کے ساتھ مل کر انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ن لیگ کے قائدؤں کے مطابق نواز شریف کی آئندہ ماہ لندن سے واپسی حتمی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ سن 2017 میں ان کی بطور وزیر اعظم برطرفی کی منصوبہ بندی اس وقت کے طاقتور فوجی سربراہ اور خفیہ ایجنسی کے چیف نے اعلی عدلیہ کے ججوں کے ساتھ مل کر کی تھی۔ پیر کے روز لندن سے ایک ویڈیو لنک کے ذریعہ ن لیگ کے قائدین سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید نے دو ججوں کے ساتھ مل کر انہیں ہٹانے کی سازش کی۔ انہوں نے اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی فوج، انٹیلی جنس ایجنسی یا عدلیہ کی جانب سے فوری طور پر ان کے اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔ نواز شریف 2019 سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بدعنوانی کے ایسے الزامات میں سزا یافتہ ہیں، جن کی انہوں نے ہمیشہ تردید کی ہے۔