قیدیوں کی سب سے بڑی معاملت پر مذاکراتامریکہ اور اسرائیل پرامید

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے غزہ میں حماس کے زیر حراست قیدیوں کی ایک مزید گروپ کو رہا کرنے کیلئے ہونے والی بات چیت تعمیری اور امید افزا ہے، لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی خصوصی ایلچی بریٹ میک گرک نے گذشتہ چند دنوں کے دوران مذاکرات کے ایک سلسلے میں حصہ لیا جس میں قیدیوں کی رہائی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے’سی این این‘ کو بتایا کہ میرے خیال میں (مذاکرات) کو تعمیری قرار دینا مناسب ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یرغمالیوں کے بارے میں ایک اور معاہدے کیلئے ایک فریم ورک موجود ہے۔ تاہم اس کو عملی شکل دینے میں وقت لگ سکتا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں پر حماس کے عسکریت پسندوں کے خونی حملے کے بعد غزہ میں قید 100 سے زائد مغویوں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔برنز نے اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ، قطری وزیر اعظم، اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ سے اتوار کو ملاقات کی۔ بات چیت کو اسرائیل نے تعمیری قرار دیا، لیکن اس بات کا اشارہ دیا کہ ابھی اس سلسلہ میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔