ٹرمپ کے بیانات فلسطینیوں کو حقوق سے محروم کرنے کی کوشش:حماس
غزہ: حماس نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کیلئے پرعزم ہے ، لیکن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہنے والی تل ابیب حکومت، کسی بھی تاخیر کی ذمہ دار ہے۔ دوسری جانب حماس کی طرف سے تعمیر نو کے بہانے فلسطینی عوام کو غزہ سے بے دخل کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات کومسترد کر دیا گیا ہے ۔ٹرمپ کے بیانات کو فلسطینی دعوے کو ختم کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے مستقل قومی حقوق سے محروم کرنے کے مقصد سے نسل پرستانہ اور نسلی تطہیر کا مطالبہ قرار دیا گیا ہے۔ غزہ سے ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا۔ فلسطینی عوام کو جلاوطن کرنے کے منصوبے کا فلسطینی، عرب اور عالم اسلام کے متحد موقف کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔ غزہ میں ہماری عظیم قوم بمباری اور جارحیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے اور یہ اپنی ہی سرزمین پرقائم و دائم رہے گی۔ انہیں زبردستی جلاوطن کرنے کے تمام منصوبے ناکام ہوں گے۔ غزہ کے عوام کی نقل مکانی کے بارے میں حماس نے کہا
کہ قابض اسرائیل حملوں اور قتل عام سے کامیاب نہ ہونے والے اپنے گندے عزائم کو تخریب کاری اور نقل مکانی کے منصوبوں سے بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ [؟][؟]بندی کے معاہدے پر کاربند ہے ، “یہ قابض اسرائیل ہی ہے جس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور یہی پیچیدگیوں اور تاخیر کا ذمہ دار ہے ۔”