واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ان کا ملک ایران پر عائد تمام پابندیوں پر عملدرآمد جاری رکھے گا اور ایران کو پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت پابندیوں سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ ایران کو پابندیوں سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا، بلنکن نے میڈیا کو بتایا، جب منجمد ایرانی فنڈز میں 6 بلین ڈالر کی متوقع ریلیز کے بارے میں پوچھا گیا۔ واشنگٹن میں خاص ذرائع نے میڈیا کے نمائندہ کو ایران میں زیرحراست 5 امریکیوں کو رہا کرنے کے بائیڈن انتظامیہ کے معاہدہ کے بارے میں نئی تفصیلات کا انکشاف کیا۔ ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنمائوں کی جانب سے مبینہ ’’تاوان‘‘کی رقم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہیکہ اس معاہدے میں تقریباً 10 ارب ڈالرز شامل ہیں جن میں جنوبی کوریا میں منجمد 6 ارب کے علاوہ عراق اور جاپان میں مزید 4 ارب روپے بھی ہیں۔ایران نے آج جمعرات کو 5 امریکیوں (4 مرد اور ایک خاتون) کو جیل سے رہا کر کے انہیں گھر میں نظر بند کر دیا، جس کے بعد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی امید پیدا ہوئی ہے جس سے وہ ملک چھوڑ سکیں گے۔یہ اس معاہدہ واشنگٹن میں بڑے پیمانے پر تنقید کے دوران سامنے آیا ہے۔خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کی جانب سے، جیسا کہ ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے کہا کہ ہم ہمیشہ امریکی یرغمالیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن اگر وہ واقعی صدر بائیڈن کی جانب سے ایران کو 6 بلین ڈالر تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیے گئے ہیں ۔ تو خوش کرنے کا یہ بزدلانہ عمل صرف آیت اللہ کو مزید یرغمال بنانے اور ان ناجائز فوائد کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ ہمارے ملک پر حملہ کرنے، دہشت گردی کو فنڈ دینے اور روس کو مسلح کرنے کیلئے استعمال کرنے کی ترغیب دے گا۔
یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صدر بائیڈن ایران کی دھن پر ناچنا بند نہیں کر دیتے اور ان کی جارحیت کا سختی سے جواب دینا شروع کر دیتے ہیں۔”