1989 میں پہلی مرتبہ ادعا ، ’’زمین کا ٹکڑا‘‘ مقدمہ کا فریق کیسے ہوسکتا ہے؟ مسلم فریقوں کے وکیل راجیو دھون کا استدلال
نئی دہلی ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد کے متنازعہ مقام پر ہندوؤں کے دعوے کی مخالفت کرنے والے چند مسلم فریقوں کو جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے بعض سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جس نے دریافت کیا کہ لارڈ رام کے پیدائشی مقام یا جنم اشتھان کو جائیداد کی ملکیت پر ادعا کرنے والے ’’قانونی اہمیت کے حامل شخص‘‘ جیسے قانونی حقوق حاصل کیوں نہیں ہوسکتے۔ چیف منسٹر رنجن گوگوئی کی زیرقیادت پانچ رکن بنچ کو سنی وقف بورڈ اور دیگر مسلم فریقوں کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے بتایا کہ مورتی ’’رام للا وراجمان‘‘ اور جنم استھان پہلی مرتبہ 1989ء میں فریقوں کی حیثیت سے عدالت سے رجوع ہوئے تھے اور متنازعہ مقام پر ادعا کیا تھا۔ انہوں نے ’جنم استھان‘ اس مقدمہ میں فریق بنانے کی شدت سے مخالفت کی اور کہا کہ دیوکی نندن اگروال نے مورتی کی طرف سے مقدمہ دائر کیا تھااور کہا کہ 1989ء تک ہمارا کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ 23 ویں دن سماعت کرنے والی اس بنچ سے جس میں جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر بھی شامل ہیں، دھون نے مزید کہا کہ اراضی کا ایک ٹکڑا آیا کس طرح مقدمہ میں درخواست دائر کرسکتا ہے۔ کہا کہ اس (زمین کے ٹکڑے) کو اس مقدمہ میں قانونی طور پر مستحق شخص کا موقف حاصل ہوسکتا ہے؟۔ دھون نے ہندو فریقوں کے اس استدلال کی بھی مخالفت کی کہ یہ صدیوں قدیم اعتقاد ہے جو ’’سکند پورانوں‘‘ اور دیگر مذہبی مخطوطات پر مبنی ہے، جن میں کہا گیا ہیکہ لارڈ رام اسی مقام پر پیدا ہوئے تھے۔