کئی برسوں سے فائیل منظوری کی منتظر، کرنل سنتوش کی طرح رقم جاری کرنے چیف منسٹر کے سی آر سے اپیل
حیدرآباد۔لداخ میں سرحد پر چینی افواج سے جھڑپ میں اپنی جان قربان کرنے والے تلنگانہ کے سپوت کرنل سنتوش بابو کے پسماندگان کیلئے کے سی آر حکومت نے کئی اعلانات کئے اور چیف منسٹر کے سی آر شخصی طور پر سوریا پیٹ پہنچے اور کاغذات حوالے کئے۔ کے سی آر کا یہ اقدام یقینا قابل ستائش ہے لیکن تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور فوجی جوان کے لواحقین حکومت کی جانب سے 30 لاکھ روپئے کی امدادکا گذشتہ 7 برسوں سے انتظار کررہے ہیں۔ لانس نائیک فیروز خاں کے افراد خاندان کو ابھی تک گیلنٹری ایوارڈ کی رقم کا انتظار ہے۔ فیروز خاں کی قربانی کو تقریباً سات سال مکمل ہونے کو ہیں۔ اکٹوبر 2013 کو جموں کشمیر میں عیدالاضحی سے ایک دن قبل سرحد پر پاکستانی فوج کی فائرنگ میں فیروز خاں نے وطن پر اپنی جان نچھاور کردی تھی۔ اسوقت متحدہ آندھرا کی حکومت نے فیروز خاں کے پسماندگان کیلئے 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا اور حیدرآباد میں مکان کیلئے اراضی الاٹ کی۔ جنوری 2019 میں مکان کیلئے 200 گز اراضی الاٹ کی گئی تاہم سرحد پر لڑائی میں قربان ہونے والے جوانوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے گیلنٹری ایوارڈ دیا جاتا ہے جس کے تحت تلنگانہ حکومت نے 18 جون 2018 کو جی او نمبر 93 جاری کرتے ہوئے ایوارڈ کی رقم کا اعلان کیا۔ لانس نائیک کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے جنوری 2015 میں گیلنٹری ایوارڈ کا اعلان کیا۔ اسوقت کے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کے ہاتھوں یہ ایوارڈ فیروز خاں کے خاندان کو دیا گیا۔ جی او نمبر 93 کے تحت ریاستی حکومت نے یکم اگسٹ 2019 کو 30 لاکھ روپئے منظور کرتے ہوئے احکامات جاری کئے۔
جی اے ڈی کے پروٹوکول ڈپارٹمنٹ کے تحت احکامات جاری کئے گئے لیکن یہ رقم آج تک فیروز خاں کے خاندان کو جاری نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری سطح پر کارروائی میں تاخیر کے سبب یہ رقم دوبارہ سرکاری خزانہ میں واپس ہوچکی ہے۔ فیروز خاں کے لواحقین حکومت کی امدادی رقم کیلئے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنتوش بابو کے افراد خاندان کو حکومت نے 5 کروڑ منظور کئے ہیں ہم نے کیا جرم کیا کہ ابھی تک اعلان کردہ رقم جاری نہیں کی گئی۔بتایا جاتا ہے کہ پے اینڈ اکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ نے کلکٹر حیدرآباد کی سفارشات کو جاریہ سال جنوری میں یہ کہتے ہوئے مستردکردیا تھا کہ اس رقم کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ جی اے ڈی اور فینانس ڈپارٹمنٹ کے تساہل کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ مدراس رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فیروز خاں کے لواحقین نواب صاحب کنٹہ میں شاہین نگر علاقہ میں مقیم ہیں۔ فیروز خاں کے خسر کا کہنا ہے کہ ان کی لڑکی نسرین خاں معاشی مسائل سے دوچار ہے اور تین بچوں کی پرورش میں دشواری پیش آرہی ہے۔ یہ تینوں علی الترتیب 12،9 اور 7 سال کے ہیں۔ شیخ معین الدین جو فیروز خاں کے خسر ہیں ایم ایس مقطعہ راج بھون کے قریب قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گیلنٹری ایوارڈ کیلئے رقمی گرانٹ کی سفارش ریجنل سینک ویلفیر آفیسر نے اکٹوبر 2018 کو کی تھی۔ کلکٹر حیدرآباد نے نومبر 2018 کو جی اے ڈی کو مکتوب روانہ کیا۔ فیروز خاں کے لواحقین نے چیف منسٹر سے اپیل کی ہے کہ سنتوش بابو کی طرح ان کی اعلان کردہ رقم بھی جاری کردی جائے۔ اسی دوران رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے ٹوئٹر پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وعدہ کے مطابق 30 لاکھ روپئے کی رقم فوری جاری کی جائے۔