ایک مسافر نے ملکیت کا دعویٰ داخل کیا، ایرپورٹ پر حفاظتی انتظامات میں شدت ، مشتبہ بیاگ سی آئی ایس ایف کے ذریعہ منتقل
نئی دہلی ۔ یکم نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک لاوارث بیاگ نے جمعہ کے دن دہلی ایرپورٹ پر آر ڈی ایکس سے بھرا ہوا ہونے کے شبہ کی وجہ سے دہشت پھیلادی لیکن عہدیداروں نے بعدازاں کہاکہ ایک مسافر نے جو اِسے ٹرمنل 3 کے روبرو بھول گیا تھا، بعدازاں اِس کی ملکیت کا دعویٰ پیش کیا۔ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ بیاگ میں کوئی دھماکو مادہ نہیں تھا اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ بیاگ میں کوئی دھماکو اشیاء نہیں تھیں اور اِسے ادعا کرنے والے کی موجودگی میں کھولا جائے گا۔ ایرپورٹ کے عہدیداروں نے شاہد حسین سے ربط پیدا کیا جبکہ اُس نے مبینہ طور پر 16 گھنٹے بعد اپنا بیاگ کھودینے کا ادعا کیا تھا۔ اُس نے کہاکہ وہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ کے ٹرمنل 3 پر ممبئی سے آمد کے بعد بھول گیا ہے۔ وہ اسپیس جیٹ کے طیارہ کے ذریعہ دہلی پہونچا تھا۔ ذرائع کے بموجب اِس شخص نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے جو فوجی عہدیداروں پر مشتمل تھی، کہاکہ بیاگ میں لاپ ٹاپ اور دیگر اشیاء ہیں، اُسے الگ تھلگ علاقہ میں لیجایا گیا۔ وہاں کالے رنگ کی ٹرالی پر بیاگ کو ایک مکمل بند برتن میں رکھ دیا گیا جو کافی دبیز دھات سے تیار کی گئی تھی اور یہ کنستر بم ناکارہ بناسکتا تھا۔ پوری حفاظتی تیاریوں کے ساتھ جو حساس ایرپورٹ پر کی گئی تھیں ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی اطلاعات سے توثیق ہوئی تھی کہ بیاگ میں ممکن ہے کہ آر ڈی ایکس بھرا ہوا ہو۔ شبہ میں اُس وقت اضافہ ہوا جبکہ وہ جگہ جہاں یہ بیاگ پڑا ہوا دیکھا گیا تھا ’’ڈارک زون‘‘ کہلاتی ہے اور مسافروں کی آمد پر ٹرمنل ہے جہاں چھوٹے چھوٹے سی سی ٹی وی کیمرے تصویریں لیا کرتے ہیں۔ سی آئی ایس ایف کی مدد سے یہ بیاگ ہٹاکر دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا۔ اِسے ابھی کھولا نہیں گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چند برقی تار بیاگ کے اندر ہیں۔
ایرپورٹ کے احاطہ میں سنجے بھاٹیہ ڈپٹی کمشنر پولیس ایرپورٹ کے بموجب حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کردی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیاگ میں آر ڈی ایکس موجود ہے۔ ذرائع کے بموجب اس کا دھماکو مادوں کا پتہ چلانے والے آلات اور کھوجی کتوں کی مدد سے معائنہ کیا گیا ہے۔ سی آئی ایس ایف کے اسپیشل ڈائرکٹر جنرل برائے ایرپورٹ سیکٹر ایم اے گناپتی نے تاہم کہاکہ یہ ابھی یقینی نہیں ہے کہ یہ دھماکو مادہ آر ڈی ایکس کے زمرہ میں آتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ کوئی بھی مادہ ہوسکتا ہے اور ابتدائی معلومات غلط بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ فی الحال یہ کہنا کہ یہ مادہ آر ڈی ایکس ہے، انتہائی قبل ازوقت ہوگا۔ ہم قطعی رپورٹ کا انتظار کرسکتے ہیں۔ اِس میں ایک مہلک بے بو دھماکو مادہ ہے جسے دہشت گرد عناصر قبل ازیں استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ اجتماعی ہلاکتیں واقع ہوسکیں۔ ذرائع کے بموجب مشتبہ دھماکو مادہ آئندہ 24 گھنٹے زیرنگرانی رہے گا۔ یقین کے ساتھ کوئی بات اِس کے بعد بھی کہی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ دھماکو مادہ ہو یا ترقی یافتہ دھماکو آلہ۔ اُنھوں نے کہاکہ جاریہ سال جولائی میں بھی وڈوڈرہ ایرپورٹ پر مال کا ایک حصہ مشتبہ سمجھا گیا تھا کہ اِس میں آر ڈی ایکس ہے لیکن بعدازاں پتہ چلا کہ اس میں فیلیٹس کا کنسائنمنٹ ہے۔ صیانتی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے جمعہ کے دن واقعہ کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ دوپہر ایک بجے کے قریب یہ بیاگ دستیاب ہوا تھا جو آمد کے باب الداخلہ نمبر دو ٹرمنل پر رکھا ہوا تھا۔ بیاگ کے دستیاب ہونے کی اطلاع سے مسافرین جنھیں ٹرمنل سے باہر جانے کی کچھ دیر کے لئے اجازت نہیں دی گئی تھی، دہشت زدہ ہوگئے۔ بعض ایرلائنز عہدیداروں نے کہاکہ سی آئی ایس ایف اور دہلی ایرپورٹ کے ارکان عملہ مکمل انسداد سبوتاج جائزہ ایرپورٹ کا لے رہے ہیں۔ مسافرین کی نقل و حرکت کی 4 بجے سے اجازت دی گئی۔ سی آئی ایس ایف اور پولیس نے اِس عمارت میں حفاظتی انتظامات معیاری طریقہ کار کے مطابق شدید کردیئے ہیں۔ دہلی ایرپورٹ کے تین ٹرمنل ہیں۔ اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازیں ٹرمنل 3 پر آمد و رفت رکھتی ہیں۔