لاؤڈ اسپیکر تنازعہ: اسے مسجد،مندرکامسئلہ نہ بنایاجائے:کل جماعتیں اجلاس کے بعد آدتیہ ٹھاکرے نے دیا بیان

   

ممبئی: مہاراشٹرمیں لاؤڈاسپیکرپرجاری تنازعہ کے درمیان حکومت نے کل کل جماعتی اجلاس بلایا تھا۔ میٹنگ میں بی جے پی کے علاوہ تمام پارٹیوں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے بعد آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ صرف مندر مسجد کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سب لاؤڈ اسپیکر کا معاملہ ہے۔ 2015 اور 2017 کے درمیان ریاستی حکومت کی کوششوں سے، عدالت نے تمام صنعتوں اور دیگر شعبوں کے لیے ڈیسیبل مقرر کیے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد مرکزی حکومت سے ملاقات کرے گا تاکہ مسئلہ کے حل پر بات چیت کی جا سکے۔آدتیہ ٹھاکرے نے کہاہے کہ ہم کسی ایک پارٹی کے لیے اصول نہیں بنا سکتے۔ ہم اس معاملے پر مرکزی حکومت سے بات کریں گے اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے گا۔ راج ٹھاکرے پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ کوئی نہ کوئی پارٹی اسے زندہ رہنے کا مسئلہ بنا رہی ہے۔راج ٹھاکرے نے کل کی میٹنگ میں بھی شرکت سے انکار کر دیا تھا۔وزیر داخلہ دلیپ والسے ہم نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ کچھ رہنما اصول بنائے جائیں گے، لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو رہنمااصول پہلے سے موجودہیں انہیں دیکھا جائے گا کہ وہ کافی ہیں یا انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔