لاڈ بازار میں سڑک کی خراب حالت سے عوام کو مشکلات

   

حیدرآباد ۔ 6 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : اگرچیکہ چارمینار کے دامن میں واقع شہر کے مشہور لاڈ بازار میں حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (HMWSSB) کی جانب سے شروع کئے گئے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں پائپ لائن کے کام جون میں مکمل ہوگئے تاہم اس سے یہاں تین سال پہلے لگائے گئے گول پتھر کی فلور نگ کو نقصان پہنچا ہے اور ان کی جگہ ابھی تک نئے پتھر نہیں لگائے گئے ہیں ۔ واٹر بورڈ نے اس سال فروری میں پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا تھا ۔ جسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی جانب سے روک دیا گیا کیوں کہ یہ کام آتھرائزیشن کے بغیر انجام دیا گیا تھا ۔ چنانچہ اے ایس آئی کی منظوری سے یہ کام شروع کیا گیا اور جون میں اس کی تکمیل ہوئی ۔ اس وقت سے اس سڑک کو کھدائی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا ۔ چونکہ پتھروں کو نکال دیا گیا ہے اس لیے پیدل راہگیروں کو مشہور لاڈ بازار سڑک سے گذرنے میں مشکلات اور دشواری پیش آرہی ہے ۔ واٹر بورڈ کے مطابق اس نے صدی قدیم پائپ لائن کو تبدیل کرنے کے لیے کام شروع کیا تھا جو رک رہی تھی اور اس کی وجہ اطراف کے علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہورہی تھی ۔ اس کام کے لیے چارمینار سے 100 میٹرس کے نصف قطر کے اندر لاڈ بازار میں چار چیانلس دو پانی اور دو کیبلس ڈالنے کے لیے بنائے گئے ۔ ٹی ڈی پی اقلیتی سیل کے نائب صدر محمد احمد نے کہا کہ اس کام کے لیے عہدیداروں کی جانب سے لاڈ بازار سڑک کی پوری لین کی کھدائی کی گئی جس سے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے حصہ کے طور پر یہاں نصب کردہ گول پتھروں کو نقصان ہوا ۔ 2018 میں بچھائے گئے ان گول پتھر تین سال کے اندر خراب ہوگئے ۔ سڑک کے بڑے حصہ کو کھدائی کی گئی حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے ۔