لکھنؤ ۔5 ۔مئی(سیاست ڈاٹ کام) پوری دنیا کی رفتار پر بریک لگانے والے کووڈ۔19 وبا کے منفی اثر سے جہاں زندگی کا کوئی شعبہ نہیں بچا ہے تو اس مہلک وبا نے کافی کاری ضرب لکھنؤ کے مشہور چکن کاری اور زردوزی صعنت پر بھی لگائی ہے ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زبردست نقصان کا سامنا کررہے اس کئی پیڑھی پرانے کاروبار سے وابستہ افراد کے سامنے فاقہ کشی کے خطرات منڈلا رہے ہیں ایسے میں انہوں نے حکومت سے راحت پیکج کا مطالبہ کیا ہے ۔لکھنؤ کے تقریبا ڈیرھ لاکھ کنبے چکن کاری اور زردوزی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔مگر لاک ڈاؤں کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے ۔بڑے کاروباری جہاں پورے سال کاکاروبار ڈوبنے کے شبہ سے پریشان ہیں تو وہیں بڑی تعداد میں اس سے وابستہ کاریگروں کے سامنے فاقہ کشی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔زردوزی یونین کے سابق نائب صدر آصف علی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر زردوزی کاریگروں کو بھی مزدوروں کی طرح مالی تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔علی نے بتایا کہ لکھنؤں کے تقریبا 50ہزار کنبو ں کے تقریبا ڈھائی لاکھ لوگوں کی روزی۔روٹی زردوزی کے کام پر ہی منحصر ہے مگر لاک ڈاؤں کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہیں اور کاریگر فاقہ کشی کو مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ زردوزی کاریگرخط افلاس سے نیچے گذر بسر کررہے ہیں لہذا حکومت خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والے لوگوں کو جو سہولیات دستیاب کرارہی ہے وہی زردوزی کے کاریگروں کو بھی ملنی چاہئے ۔انہوں نے بتایا کہ ایک کاریگر کو یومیہ 100تا120 روپئے ہی ملتے ہیں۔ اتنے کم پیسوں میں گذارا کرنا اس مہنگائی کے زمانے میں کافی مشکل ہے ۔ اب لاک ڈاؤن کی وہ سے گذشتہ 6ہفتوں سے کام کاج ٹھپ ہیں ایسے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا گذر بسر کس طرح سے کررہے ہوں گے۔ لکھنؤ چکن ایسو سی ایشن کے کنوینر سریش چھبلانی نے بتایا کہ لکھنؤ کا چکن کاری صنعت نوابوں کے وقت سے جاری ہے ۔ اس وقت اس کا حجم تقریبا 300کروڑ روپئے سالانہ کا ہے ۔