تعمیراتی اشیاء کی قیمتوں میں بھاری اضافہ بھی بلڈر کے لیے سنگین مسئلہ، مالکین اور صارفین کے لیے الجھن
حیدرآباد۔8مئی(سیاست نیوز) شہر میں تعمیراتی سرگرمیوں کو شروع کرنے کی اجازت کے باوجود مزدروں کی عدم موجود گی کے علاوہ دیگر کئی وجوہات کی بناء پر خانگی تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز نہیں ہوسکاہے ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے صنعتی و تعمیراتی سرگرمیو ں کے آغاز کے علاوہ ریت کی کانکنی کی اجازت دیئے جانے کے باوجود بھی شہر حیدرآباد اور شہر کے نواحی علاقوں میں کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں تیزی نہ لائے جانے کے متعلق بلڈر س کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن کے آغاز سے اب تک جو حالات رونما ہوئے ہیں ان میں کئی چیالنجس کا سامنا ہے جن میں سب سے اہم مزدور کی موجودگی کا چیالنج ہے تو دوسری جانب سے تعمیری اشیاء کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے بے تحاشہ اضافہ کا مسئلہ ہے جس سے نمٹنا اب بلڈرس کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ تعمیری اشیاء کی فروخت انجام دینے والوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس سلسلہ میں مجبور ہیں کیونکہ جن حالات کا سامنا دنیا کو ہے انہی حالات کا شکار وہ بھی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان سرگرمیوں کے آغاز کے احکام جاری کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے لیکن جس طرح کے ردعمل کی توقع تھی وہ نظر نہیں آرہا ہے ۔ بلڈرس نے بتایا کہ مزدور کی عدم موجودگی کے مسئلہ کے علاوہ سیمنٹ کی قیمت میں ہونے والے اضافہ سے بھی تعمیری سرگرمیوں پر کافی گہرا اثر پڑا ہے اور اگر سیمنٹ کی قیمت قابو میں نہیں آتی ہے تو ایسی صورت میں بلڈرس کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بیشتر بلڈرس کی جانب سے کنٹراکٹ کے اساس پر بڑی بڑی تعمیرات کے ٹھیکہ حاصل کئے جاتے ہیں اور بعض بلڈرس کی جانب سے تعمیر اور فروخت پر توجہ دی جاتی ہے لیکن اب جو صورتحال ہے اس صورتحال میں حالات کو معمول پر لاتے ہوئے تعمیری سرگرمیوں میں تیزی پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت سیمنٹ کی قیمت کو قابو میں لانے کے اقدامات کے ساتھ ریت کی کانکنی کو تیز کرے اور مزدوروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں تعمیری سرگرمیوں کا حصہ بننے کی ترغیب دے۔بلڈرس برادری کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اگر یہ اقدامات کئے جاتے ہیں تو ریاست میں معاشی سرگرمیوں میں تیز رفتار تبدیلی لائی جا سکتی ہے لیکن اگر جوں کے توں حالات میں بلڈرس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ریاست کی معاشی سرگر میوں کو بہتر بنائیں تو یہ ممکن نہیں ہوگا کیونکہ بلڈرس اور صنعتکاروں کے بھی اپنے کوئی حدود ہیں اور وہ ان سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے سلسلہ تجارت کو جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ نقصانات برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی جان بوجھ کرنقصان برداشت کرتے ہوئے دوسروں کی بہتری کیلئے اقدامات پر مجبور کرے تو ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اسی لئے بلڈرس اور صنعتکارو ںکی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ ریاستی حکومت ان کے لئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کرتے ہوئے ریاست میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اقدامات کرے گی۔
