لاک ڈاؤن : خانگی دواخانوں کا شعبہ مشکلات کا شکار

   

Ferty9 Clinic

کروڑہا روپئے کا نقصان ، شریک ہونے والے مریضوں میں 30 فیصد کمی
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز)ملک میں لاک ڈاؤن کے سبب نہ صرف ہوٹل‘ سیاحت‘ ریستوراں اور دیگر صنعتوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ ہندستان کے موجودہ حالات میں کورونا وائرس سے مشکل اور پریشانی کا شکار صنعتوں میں خانگی دواخانوں کی صنعت بھی ہے جو کہ سنگین صورتحال سے دو چار ہے کیونکہ ریاستی ومرکزی حکومتوں کی جانب سے خانگی دواخانوں کو علاج و معالجہ کی شدید ضرورت اور ایمرجنسی کے بغیر مریضوں کو شریک دواخانہ کرنے کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب ملک بھر کے دواخانو ںمیں موجود 60فیصد بستر مخلوعہ ہیں اور مریضوں کو طویل مدت تک دواخانہ میں شریک رکھنے سے اجتناب کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ سرکاری احکامات کے مطابق خانگی کارپوریٹ دواخانوں کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہ انتہائی سنگین ہوتے جارہے ہیں اور دواخانوں کی صنعت کوبھی سیاحت اور ہوٹلوں کی طرح ہزاروں کروڑ کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں کمی کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے بستروں کے حصول کے اقدامات اور کارپوریٹ دواخانو ںکی جانب سے مریضوں کو ایک دوسرے کے رابطہ سے محفوظ رکھنے کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری کے لئے کئے جانے والے دیگر اقدامات نے دواخانوں کی معیشت کو بھی سنگین حالات کا شکار بنا دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میںموجود خانگی کارپوریٹ دواخانوںکو ماہانہ صرف آپریٹنگ کے نقصانات کے طور پر 4500 کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے اور جبکہ ماہانہ مجموعی نقصانات کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ماہانہ 7300 کروڑ کے نقصان برداشت کرنے پڑرہے ہیں اور سہ ماہی کا جائزہ لیا جائے تو یہ نقصانات 21ہزار 900 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ملک بھر میں خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں میں لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران شریک دواخانہ ہونے والے مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔کورونا وائرس سے قبل دواخانوں میں 65تا70 فیصد بستروں پر مریض موجود رہتے تھے لیکن اب اس میں 30 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ ماہرین شعبہ صحت کا کہناہے کہ اگر کورونا وائرس کی اس وباء کے دوران ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے سبب پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے شعبۂ صحت کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوستان میں خانگی طبی شعبہ کو 2.4ٹریلین ہندوستانی روپئے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور مستقبل میں یہ صورتحال کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں خانگی میڈیکل شعبہ کے حالات انتہائی سنگین ہونے کا خدشہ ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر مز ید تین ماہ تک یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو ایسی صورت میں حالات ابتر ہوجائیں گے اور خانگی شعبہ طب تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گااور حکومت کی جانب سے اس شعبہ کو بچانے کیلئے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں شعبہ طب تباہ ہوجائے گا۔