علماء کی اپیلوں پر عمل آوری، کئی دکاندار عید کے بعد کاروبار کے خواہاں
حیدرآباد۔/23 مئی، ( سیاست نیوز) دو ماہ طویل لاک ڈاؤن کے دوران مساجد میں عبادتوں سے محروم مسلمانوں نے علمائے کرام اور اکابرین ملت کی اپیل پر عید کی خریداری سے خود کو دور رکھتے ہوئے ملی حمیت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے۔ ملک بھر میں علمائے کرام اور اکابرین ملت نے تحریک چلائی تھی کہ مسلمانوں کو عیدالفطر سادگی سے منانی چاہیئے کیونکہ گزشتہ دو ماہ کے دوران لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عبادت گاہوں کو بند رکھا گیا۔ رمضان المبارک کا پورا مہینہ لاک ڈاؤن کی نذر ہوگیا اور مسلمان مساجد میں عبادات بالخصوص تراویح اور اعتکاف سے محروم رہے۔ ایسے وقت جبکہ عبادتوں سے محرومی نے رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کی ساعتوں کو متاثر کیا ہے لہذا مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ لاک ڈاؤن میں رعایتوں کے باوجود عید کی خریداری سے گریز کریں۔ لاک ڈاون کے سبب غریب اور متوسط طبقات مالی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں لہذا جن کے پاس بھی عید کی خریداری کی سکت ہے انہیں چاہیئے کہ وہ اس رقم کو غریب خاندانوں کی مدد پر خرچ کریں تاکہ غریب گھرانوں میں عید منائی جاسکے۔ حکومت نے تقریباً سارے ملک میں لاک ڈاؤن میں بھاری نرمی دیتے ہوئے عید سے ایک ہفتہ قبل تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی۔ مہاراشٹرا ، کرناٹک ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے تمام بڑے شہروں میں کاروباری ادارے اور دکانات کھول دیئے گئے لیکن علمائے کرام کی اپیل کا احترام کرتے ہوئے مسلمانوں نے عید کی خریداری سے گریز کیا۔ حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں تجارتی سرگرمیوں کو بحال کئے جانے کے بعد اندیشہ تھا کہ بڑے پیمانے پر لوگ خریداری کیلئے گھروں سے نکلیں گے لیکن انتہائی تحمل اور سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو خود کو خریداری سے دور رکھا۔ سوائے چند ایک افراد کے کوئی بھی دکانات پر دکھائی نہیں دیا۔ کپڑے، جوتے چپل، آرائش و زیبائش کے سامان اور ریڈی میڈ گارمینٹس کی دکانات بھی خریداروں سے خالی رہیں۔ مسلمانوں کی متحدہ مساعی کے نتیجہ میں شہر کے کئی علاقوں میں تاجروں نے اپنے طور پر دکانات کو بند رکھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ کوئی خریدار نہیں آئے گا۔ کئی دکانداروں نے بورڈ آویزاں کردیئے جس پر لکھا گیا ’’ جب رمضان میں عبادت نہیں ہوسکی تو پھر خریداری کیوں، ہماری دکان اب عیدالفطر کے بعد ہی کھلے گی۔‘‘ گریٹر حیدرآباد کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں میں بھاری بھیڑ کی توقع کی جارہی تھی لیکن صورتحال اس کے برعکس رہی۔ گلبرگی، بنگلورو اور تلنگانہ کے کئی علاقوں میں مسلم تنظیموں نے سوشیل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعہ خریداری سے دور رہنے کی کامیاب مہم چلائی جس کے نتیجہ میں بازار سنسان دکھائی دے رہے تھے ۔ صرف ترکاری اور فروٹس کی خریداری میں لوگ مصروف دیکھے گئے۔ اگر کسی مقام پر معلومات سے محروم خواتین اور مرد خریداری کرتے دیکھے گئے تو انہیں نوجوانوں نے سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیا۔ الغرض جس طرح رمضان المبارک لاک ڈاؤن کی نذر ہوگیا اسی طرح عیدالفطر کی روایتی خریداری کو بھی مسلمانوں نے خیرباد کہتے ہوئے ملی اتحاد کا ثبوت دیا۔