متعدد خاندانیں مقروض ، فیس کی ادائیگی کے بھی موقف میں نہیں ، ترک تعلیم میں اضافہ ممکن
حیدرآباد۔ ملک بھر کی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے سبب صرف شہریوں کی تجارتی سرگرمیاں یا معیشت متاثر نہیں ہوئی ہے بلکہ بچوں کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ لاک ڈاؤن کی برخواستگی کے بعد بھی تعلیمی سرگرمیوں کے پوری طرح سے بحال ہونے کے امکانات موہوم ہیں کیونکہ معاشی حالات ابتر ہونے کے سبب آئندہ تعلیمی سال کے دوران ترک تعلیم کے رجحان میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے جس کی بنیادی وجہ ملک گیر سطح پر شہریوں کی آمدنی متاثر ہونا اور مہنگائی میں اضافہ ہونا ہے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے 40 فیصد سے زیادہ بچوں کے ترک تعلیم کا خدشہ ہے کیونکہ کئی خاندانوں نے لاک ڈاؤن کے دوران آمدنی متاثر ہونے کے سبب قرض حاصل کرتے ہوئے ضروریات زندگی کی تکمیل کی ہے اور جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو ان کی ترجیحات میں قرض کی ادائیگی اور اخراجات کی تکمیل ہوگی اسی لئے وہ بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے کے موقف میں نہیں ہوں گے۔ تعلیمی اخراجات کی ادائیگی کے متحمل نہ ہونے کے سبب کئی والدین اور سرپرستوں کی جانب سے اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے سے اجتناب کئے جانے کا خدشہ ہے کیونکہ تنظیم کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام حالات میں بھی اسکولوں میں 4تا5ماہ کی فیس کے بقایاجات ہوا کرتے تھے لیکن لاک ڈاؤن کے سبب پیدا ہونے والے معاشی مسائل کی وجہ سے سال گذشتہ 80 فیصد سے زیادہ والدین اور سرپرستوں نے فیس ادا نہیں کی اور بیشتر اسکولوں کی جانب سے رعایت دیتے ہوئے فیس وصول کی گئی اور تعلیمی سال کے آخری حصہ میں دوبارہ لاک ڈاؤن اور آمدنی متاثر ہونے کے سبب والدین اور سرپرستوں کے مسائل میں اضافہ ہوچکا ہے اور آئندہ تعلیمی سال کے دوران ترک تعلیم کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے خدشات کو دور کرنے کیلئے حکومت کو اس سلسلہ میں فوری منصوبہ بندی کرتے ہوئے اقدامات کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔بچوں کے تعلیمی مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کیلئے اگر ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جاتے ہیں اور سرکاری طور پر چلائی جانے والی آن لائن کلاسس سے استفادہ کی عام اجازت فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بچوں کے سلسلہ تعلیم کو جاری رکھنے میں ہونے والی دشواریوں کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کوتعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے منصوبہ کا بھی اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔