حیدرآباد۔ ملک میں لاک ڈاؤن کے سبب صرف خوف کے عالم میں اشیائے ضروریہ کی خریداری میں اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ شہریوں میں معاشی بدحالی کا خوف بھی تیزی سے پیدا ہونے لگا ہے اور وہ ایک ایک پائی کی حفاظت کے لئے کوشش کرنے لگے ہیں جس کا ثبوت ملک میں دیڑھ ماہ کے دوران شہریو ںمیں بینکوں میں رقومات جمع کرنے کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ملک میں اچانک کورونا وائرس کی لہر کی شدت کے ساتھ ہی شہریوں میں جمع بندی کے رجحان کو ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ بینکوں میں رقومات جمع کرنے کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ شہری اپنی ضرورتوں بالخصوص ہنگامی حالات میں رقومات کی موجودگی کے علاوہ آئندہ چند ماہ کے دوران امکانی معاشی بدحالی سے محفوظ رہنے کیلئے بینکوں میں رقومات جمع کرنے لگے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ مارچ تا مئی کے دوران جاریہ مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی بینکوں میں اس رفتار سے رقومات جمع کئے جانے کے عمل کو دیکھتے ہوئے سرکردہ معاشی ماہرین میں بھی ایک انجان خوف کی صورتحال دیکھی جانے لگی ہے۔جاریہ مالی سال کے پہلے 15یوم کے دوران لک کے بینکوں میں 1لاکھ 1ہزار357کروڑ روپئے جمع کئے گئے جبکہ دوسرے 15یوم کے دوران 80ہزار 579 کروڑ جمع کئے گئے ہیں اسی طرح تیسرے 15یوم کے دوران جو صورتحال دیکھی گئی ہے اس کے مطابق82ہزار 555 کروڑ روپئے جمع کئے گئے ہیں جس سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ شہریوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران پیدا ہونے والی معاشی بدحالی کے خدشات کے تحت یہ جمع بندی کی جا رہی ہے۔