لاک ڈاؤن سے پریشان حال عوام کوبرقی بلز کی صورت میں جھٹکا

   

حکومت کا ہٹ دھرمی کا رویہ، عوام ہائی کورٹ سے رجوع ہونے پر مجبور
حیدرآباد۔/9 جون، ( سیاست نیوز) کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ایک طرف غریب اور متوسط طبقات معاشی مسائل کا شکار ہوئے تو دوسری طرف محکمہ برقی نے گذشتہ تین ماہ کا بھاری بل روانہ کرتے ہوئے گھریلو صارفین کو شاک دیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں صارفین کو ماہانہ اساس پر بلز جاری نہیں کئے گئے اور لاک ڈاؤن میں رعایت کے بعد 90 دن کا بل ایک ساتھ جاری کردیا گیا۔ بل کی اجرائی میں محکمہ برقی کے عہدیداروں نے ماہانہ برقی کے استعمال سے متعلق سلاب کے تحت رقم کا تعین کرنے کے بجائے مجموعی استعمال کئے گئے یونٹس پر زائد سلاب کے تحت بلز روانہ کئے ہیں۔ گھریلو صارفین کیلئے 50 یونٹ تک فی یونٹ ایک روپیہ 45 پیسے، 51 تا 99 یونٹ 2 روپئے 6 پیسے فی یونٹ کا سلاب ہے۔ لیکن بلز کی تیاری میں اگر کسی کے یونٹس 100 استعمال ہوئے ہیں تو حکام نے 100یونٹ کے حساب سے بلز تیار کئے ہیں۔ اسی طرح جس قدر زائد برقی یونٹس کا استعمال ہوا اُسی مناسبت سے شرح کا تعین کیا گیا جو عوام پر بھاری بوجھ ہے۔ اس سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوام نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹر پر اعتراف کیا کہ مختلف گوشوں سے اضافی بلز کے بارے میں شکایات ملی ہیں اور وہ اس سلسلہ میں وزیر برقی سے مشاورت کریں گے۔ کے ٹی آر کی جانب سے ٹوئیٹ کے بعد اُمید کی جارہی تھی کہ گھریلو صارفین کو کسی قدر راحت ملے گی لیکن وزیر برقی جگدیش ریڈی نے بلز کی اجرائی کو درست قرار دیا اور کہا کہ صارفین کو تین اقساط میں ادائیگی کی سہولت رہے گی۔ عوام لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں پہلے ہی معاشی مسائل کا شکار ہیں تو دوسری طرف ہزاروں روپئے کے برقی بلز نے نیا جھٹکا دیا ہے۔ عوام موجودہ حالات میں بلز کی ادائیگی کے موقف میں نہیں ہیں اور مختلف صارفین کی تنظیمیں اور سیاسی قائدین اس مسئلہ پر عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ اب جبکہ حکومت سے کسی راحت کی اُمید نہیں ہے لہذا عوام نے اپنی اُمیدیں ہائی کورٹ سے وابستہ کرلی ہیں۔