حکومت کی رعایت رہائش تک محدود، تجارتی اداروں سے کرایہ کے مطالبہ میںشدت
حیدرآباد۔/23 مئی، ( سیاست نیوز) لاک ڈاؤن میں پریشان حال افراد کو راحت پہنچانے کیلئے حکومت نے رہائشی مکانات کا 3 ماہ تک کرایہ وصول نہ کرنے مکانداروں کو ہدایت دی لیکن لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی مکان دار کرایہ کیلئے اصرار کرنے لگے جس کے بعد مکان داروں اور کرایہ داروں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کئی تنازعات پولیس سے رجوع ہوچکے ہیں۔حکومت نے صرف رہائشی مکانات کیلئے تین ماہ کی رعایت دیتے ہوئے بعد میں یہ کرایہ اقساط میں وصول کرنے کی ہدایت دی تھی۔جبکہ تجارتی اداروں کیلئے کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں نئے تنازعات پیدا ہورہے ہیں۔ حکومت نے جیسے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی ملگیات اور تجارتی کامپلکسس کے مالکین کرایہ کیلئے اصرار کرنے لگے۔ ملگیات اور تجارتی اداروں کے بھاری کرایہ جات ہوتے ہیں اور تاجرین گزشتہ دو ماہ تک کاروبار بند ہونے کے سبب اس موقف میں نہیں کہ بھاری کرایہ ادا کرسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رہائشی اور تجارتی مقامات کے کرایہ جات کے مسئلہ پر تنازعات دن بہ دن بڑھنے لگے ہیں۔ مالکین کا استدلال ہے کہ اُن کا گذر بسر کرایہ پر منحصر ہے ایسے میں اگر تین ماہ تک کرایہ نہیں دیا گیا تو اُن کا گذارا کیسے ہوگا جبکہ تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بھاری نقصان سے دوچار ہوچکے ہیں لہذا وہ کم از کم دو ماہ تک کرایہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ رہائشی اور تجارتی مقامات پر کرایہ کے سلسلہ میں یہ تنازعات باعث تشویش ہیں اور کئی مقامات پر پولیس نے بھی معاملہ کی یکسوئی سے انکار کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں مالکین ملگیات نے کرایہ ادا نہ کرنے کی صورت میں تخلیہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اب جبکہ لاک ڈاؤن کے اختتام کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے اور مکمل خاتمہ کے باوجود تجارتی سرگرمیاں کب بحال ہوں گی اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ ایسے میں اندیشہ ہے کہ مکاندار اور کرایہ دار کے درمیان تنازعات آگے بھی جاری رہ سکتے ہیں۔حکومت کو اس سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کرنا چاہیئے تاکہ تنازعات کو روکا جاسکے۔