لاک ڈاؤن :غریبوں کی مدد صرف بلدیہ کے ذریعہ ہوگی

,

   

پہلے سے جاری کردہ پاسیس اب قابل قبول نہیں ہونگے ۔ جی ایچ ایم سی کا فیصلہ
حیدرآباد۔21 اپریل (سیاست نیوز)لاک ڈاؤن میں کئی اہل خیر حضرات ضرورتمندوں میں اجناس اور کھانے کی اشیا تقسیم کررہے ہیں لیکن اب وہ اپنے طور پر یہ کار خیر انجام نہیں دے سکیں گے کیونکہ اس کام میں کورونا کے خلاف اقدامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے لہذا اب کوئی بھی کام جی ایچ ایم سی کے ذریعہ کیا جائیگا۔ بہت سے عطیہ دہندگان اور غیر سرکاری تنظیمیں بغیر کسی معاشرتی فاصلے کو یقینی بنائے کھانا و راشن تقسیم کررہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے منگل سے شہر میں اس طرح کے پروگراموں کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو بھی کھانوں کا عطیہ کرنا چاہتا ہے وہ اپنا ساز وساما ن میونسپل کارپوریشن کے حوالے کرسکتا ہے ، جو ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ کارپوریشن نے اعلان کیا کہ عطیہ دہندگان اور این جی اوز کو پہلے جاری کئے گئے پاس اب قابل قبول نہیں ہونگے۔ میئر بی رام موہن نے کہا کہ چاول اور دیگر اشیائے ضروریہ کے عطیات کیلئے تیار افراد اورتنظیمیں جی ایچ ایم سی یا پولیس کے حوالے کرسکتے ہیں۔ خوراک اور دیگر سامان کی تقسیم کے دوران ، عطیہ دہندگان معاشرتی فاصلے کی اہمیت کو نظرانداز کر رہے ہیں اوراسکے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے مقاصد فوت ہورہے ہیں۔اس طرح کے اجتماعات میں وائرس پھیل جانے کا امکان ہے۔ میں عطیہ دہندگان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خود کھانا اور ضروری اشیاء تقسیم نہ کریں۔ دریں اثنا لب سڑک رہنے والے چند تارکین وطن کارکنوں سمیت 22 افراد کو وکٹری پلے گراؤنڈ کے ایک شیلٹر ہوم منتقل کردیا گیا۔ میونسپل کارپوریشن اس وقت 25 پناہ گاہیں چلا رہی ہے اور 1428 افراد کو مختلف مقامات پر رہائش ، کھانا اور دیگر سہولیات مہیا کر رہی ہے۔تمام 30 ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یتیموں اور گداگروں کی شناخت کیلئے پولیس کے ساتھ ہم آہنگی کیلئے خصوصی مہم چلائیں۔