پہلی سہ ماہی میں منفی شرح ترقی کا اندیشہ: سابق گورنر آر بی آئی رنگا راجن
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ا پریل (پی ٹی آئی) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر سی رنگا راجن نے چہارشنبہ کو یہ پیش قیاسی کی کہ رواں مالیاتی سال کی پہلی سہ ماہی میں شرانمو منفی کے زمرہ تک گھٹ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے اس نظریہ کا اظہار بھی کیا کہ وزیراعظم مودی کے لاک ڈاؤن میں توسیع متعلق اعلان میں تاریک وطن مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے مسائل کو حل کرنے کے منصوبوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے تھا۔ رنگا راجن نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں اگرچہ مجموعی گھریلو پیداوار میں منفی شرح درج ضروری ہوسکتی ہے اگر آئندہ تین سہ ماہیوں کے دوران صورتحال بہتر بھی ہوتی ہے تو ترقی کی شرح زیادہ سے زیادہ 3.5 فیصد کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ آر بی آئی کے سابق گورنر نے مزید کہا کہ ’’سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی سخت ترین دشواریاں سماج کے انتہائی مخدوش اور کمزور طبقات بڑی مشکل سے ڈھو رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹریاں بند ہونے کے سبب بشمول تاریک وطن مزدور ، یومیہ اجرت پانے والے محنت کش بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ رنگا راجن نے کہا کہ ’’چنانچہ اگر لاک ڈاؤن قطعی طور پر لازم ہے تو کچھ اس چیز کے بارے میں بھی سوچا جانا چاہئے جس کے ذریعہ ان افراد پر توجہ دی جاسکے جو روزگار سے محروم کردیئے گئے ہیں۔
