لاک ڈاؤن میں آٹوز خدمات مسدود ، ڈرائیورس بے روزگار

   

ارکان خاندان کھانے کے لیے محتاج ، حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : لاک ڈاؤن کے باعث آٹوز گھروں تک محدود ہوگئے ہیں جس سے ارکان خاندان کی کفالت آٹو ڈرائیورس کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے ۔ پہلے سے مقروض رہنے والے آٹو ڈرائیورس پر مزید مالی بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے آٹو ڈرائیورس پر توجہ دینا ضروری ہوگیا ہے ۔ جس پیشہ سے آٹو ڈرائیورس اور ان کے ارکان خاندان کا گذر بسر ہے وہ لاک ڈاؤن کے باعث بالکل ہی چوپٹ ہوگیا ہے ۔ یومیہ آٹو چلا کر ارکان خاندان کا پیٹ بھرنے والے آٹو ڈرائیورس کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے ۔ فینانس پر آٹو حاصل کرنے والوں کی حالت اور بھی خراب ہے ۔ عوامی ٹرانسپورٹ کی محدود خدمات کے باعث عوام کے لیے ایک مقام سے دوسرے مقامات پہونچنے کے لیے آٹو ہی بہت بڑی سہولت ہے ۔ کئی بیروزگار افراد اور نوجوانوں کو آٹو ہی روزگار فراہم کرتا ہے ۔ کئی ایسے افراد بھی ہیں جو روزانہ اپنے کام کاج کے بعد شام کے اوقات میں آٹو چلاتے ہیں ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام سرگرمیاں بند ہوگئی ہیں ۔ مگر ان کے گھروں کے کرائے اور بچوں کے اسکول فیس کا میٹر جاری ہے ۔ حکومت کی جانب سے کرائے داروں کو راحت تو فراہم کی گئی ہے مگر کئی ایسے کئی مکاندار بھی ہیں جو کرایہ کے لیے کرایہ داروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ حکومت نے آئندہ تین ماہ تک کرایہ وصول نہ کرنے اور خانگی اسکولس کو تعلیمی فیس میں اضافہ نہ کرنے کے احکامات تو جاری کردئیے مگر برقی اور پانی کے بلز آئندہ تین ماہ تک وصول نہ کرنے کے کوئی احکامات جاری نہیں کئے بلکہ گذشتہ سال مارچ ۔ اپریل میں جو بلز وصول کئے گئے تھے وہی بلز وصول کئے گئے تھے وہی بلز وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ایک طرف آٹوز کا سڑکوں پر آنا بند ہوگیا دوسری طرف ان کی جانب سے جو قرض حاصل کیا گیا تھا اس پر عائد ہونے والے سود میں تو اضافہ ہوتے ہی جارہا ہے ۔ بیشتر آٹو ڈرائیورس فینانس پر آٹو خریدتے ہیں روزانہ آٹو چلاتے ہوئے ہونے والی آمدنی سے فینانس ادا کرتے ہیں اور جو بچ جاتا ہے اس سے اپنا گھر چلاتے ہیں ۔ گذشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن کے باعث آٹو ڈرائیورس بڑی حد تک معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں ۔ حاصل کردہ قرض پر سود بھی بڑھ رہا ہے ۔ جس سے کئی آٹو ڈرائیورس پریشان ہیں ۔۔