گھروں تک محدود پرائمری طرز تعلیم کیلئے کمپنیوں کے اقدامات
حیدرآباد۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگار ہونے والے اساتذہ کیلئے مختلف اداروں اور ایجنسیوں کی جانب سے گھر بیٹھے روزگار کے حصول کے منصوبوں کا اعلان کیا جارہاہے اور ان کو گھر کے کمرے میں ٹیوشن کے طرز پر اسکول چلانے کی سہولتوں کی فراہمی کے امور پر کام کیا جانے لگا ہے ۔ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دوران اسکولوں کو بند کئے جانے کے بعد ریاست تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں خانگی اساتذہ کو سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان حالات میں وہ ٹیوشن پر بھی انحصار کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لئے کئی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں پرائمری طرز تعلیم کو گھروں کی حد تک محدود کرتے ہوئے انہیں اعلی اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ اساتذہ کو روزگار کی فراہمی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ تعلیم کے بہتر مستقبل اور اساتذہ کو معاشی ذرائع سے محرومی سے بچانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ان منصوبوں کے ذریعہ طلبہ کے سلسلہ تعلیم اور اساتذہ کی آمدنی دونوں کو جاری رکھنے کیلئے یہ اقدام کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ان کمپنیوں کو خدمات کی انجام دہی میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹ پیدا کئے جانے کے خدشات کے تحت ان کمپنیوں نے خاموشی کے ساتھ اپنے کام کو شروع کردیا ہے اور کئی علاقو ںمیں اساتذہ اپنے گھروں میں 2 تا 3بیاچس میں بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنے لگے ہیں اور پری پرائمری اور پرائمری کلاسس کے طلبہ کی تعلیم کو یقینی بنایا جارہا ہے۔خانگی بین الاقوامی کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ آن لائن کلاسس بچوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوتے ہیں۔
