ٹھیلہ بنڈی رانوں اور یومیہ مزدور کو مشکلات ، حکومت سے امداد کی نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کے فیصلہ کے ساتھ ہی غریب و متوسط طبقہ تفکرات میں مبتلاء ہونے لگا ہے اور غریب ٹھیلہ بنڈی رانوں کے مسائل اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں ٹھیلہ بنڈی رانوں اور مزدوروں کے مسائل میں اضافہ ہونے لگا ہے اور حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کے فیصلہ کے ساتھ ہی ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو کام نہ ملنے کے سبب وہ بھی معاشی مشکلات کا شکار ہورہے ہیں۔حکومت کی جانب سے ریاست کے غریب طبقہ کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب شہریوں میں مایوسی پائی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کو عوام کے مسائل کی پرواہ نہیں ہے بلکہ حکومت اپنی من مانی میں مصروف ہے۔ٹھیلہ بنڈی راں جو روزانہ محنت کرتے ہوئے روزی روٹی حاصل کرتے تھے لاک ڈاؤن کے سبب ان کی مکمل آمدنی متاثر ہوچکی ہے اوروہ لاک ڈاؤن کے اس مرحلہ سے تفکرات میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو سود خوروں کے چنگل سے محفوظ رکھنے کیلئے معمولی قرض کی فراہمی کے اقدامات کویقینی بنائیں کیونکہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے ٹھیلہ بنڈی رانوں کی مدد کیلئے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ٹھیلہ بنڈی رانوں کو مشکل حالات سے نکلنے کیلئے سود پر پیسہ حاصل کرنا پڑیگا اسی طرح دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں یومیہ اجرت پر خدما ت انجام دینے والے مزدوروں میں ہوٹلوں میں کام کرنے والا عملہ ‘ شادی خانوں میں خدمات انجام دینے والا عملہ اور دیگر کئی شعبۂ حیات میں خدمات انجام دینے والا عملہ شامل ہے لیکن انہیں مزدوری حاصل نہ ہونے کے سبب وہ مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ریاستی حکومت کو ان مشکلات کے حل کیلئے مزدوروںاور ٹھیلہ بنڈی رانوں کیلئے علحدہ منصوبہ اور ان کیلئے پیاکیج کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ دونوں شہروں میں رہنے والے ٹھیلہ بنڈی رانوں اور مزدوروں کی راست مدد کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے ۔ذرائع کے مطابق مزدور طبقہ کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کی تنظیموں کی جانب سے حکومت سے اس سلسلہ میں نمائندگی کرنے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئندہ چند یوم کے دوران چیف منسٹر اورگورنر کے علاوہ دیگر وزراء مکتوب روانہ کیا جائے گا ۔