لاک ڈاؤن میں توسیع کیساتھ پولیس ہراسانی کے واقعات میں اضافہ

,

   

Ferty9 Clinic

میڈیا اسٹاف سے بحث و تکرار ، لازمی خدمات ، دودھ اور غذائی اشیاء کی دوکانات ، اور عوام سختیوں کانشانہ

حیدرآباد ۔ /22 اپریل (سیاست نیوز) لاک ڈاؤن میں سختی کے اعلان کے بعد شہر کی پولیس بے قابو ہوگئی ہے ؟ لاک ڈاؤن کی عمل آوری میں مصروف سٹی پولیس کے عملہ آور عہدیداروں کا رویہ شہریوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔ پولیس کی سختی بے وجہ گھومنے اور سڑکوں کو آباد کرنے والوں کے خلاف ضروری تصور کی جاتی ہے لیکن اس آڑ میں پولیس اشیاء ضروریہ کی فراہمی والے افراد پر بھی غیر ضروری سختی کررہی ہے ۔ پولیس اس قدر بے لگام ہوگئی ہے کہ اخبارات میں کام کرنے والے عملہ کو بھی ہراساں کررہی ہے ۔ اشیاء ضروریہ کی منتقلی اور فروخت کرنے والے افراد کو سابق میں پاسیس جاری کئے گئے تھے ۔ تاہم اب ان کی منسوخی کے احکامات سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بالخصوص دودھ جیسی زندگی کی اہم ضرورت کوپورا کرنے والے افراد پولیس کی مبینہ زیادتی کا شکار ہورہے ہیں ۔ شہر کے مختلف علاقوں سے دوکانات کو وقت سے پہلے بند کروانے کی شکایتیں حاصل ہورہی ہیں ۔ مقررہ وقت سے قبل ہی بند کروایا جارہا ہے اور دودھ کی دوکانات تک پہونچنے والے سپلائی اور دوکانات میں فروخت کرنے والے عملہ کیلئے ان کے ادارے کی شناخت ظاہر کرنے پر چھوڑدیا جاتا ہے ۔ لیکن اب دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن میں اس عملہ کا گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ جس کے سبب مارکٹ میں دودھ کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔
ڈیری انڈسٹری اشیاء ضروریہ کے زمرہ میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور اب اس دوران 2 بجے کے بجائے 12 بجے ہی دوکانات کو بند کرنے پر زوردیا جارہا ہے اور اکثر علاقوںمیں دباؤ ڈالکر جبراً 12 بجے دن سے قبل ہی دوکانات کو بند کروایا جارہا ہے ۔ رمضان المبارک کے پیش نظر ایسی سختی مزید تشویش و حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ آئندہ دو دنوں میں ماہ رمضان مبارک کاآغاز ہونے جارہا ہے اور ماہ رمضان میں اکثر شہری بالخصوص روزے دار افراد 12 اور 2 بجے کے بعد ہی اشیاء ضروریہ کی خریداری کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں 12 بجے دوکانات کو بالخصوص دؤدھ کی دوکانات اور عملہ کو پریشان کرنا مزید مشکلات کا سبب بن سکتا ہے ۔ ارباب مجاز اور حکومت کو چاہئیے کہ وہ ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موثر اقدام کریں اور پولیس کو قابو میں رکھنے پر زور دیں ۔ اکثر شہری بلاضرورت سڑکوں پر گھومنے والوں کے حق میں سختی کے حامی ہیں لیکن ضرورت مندوں اور انتہائی ضرورت کے حامل افراد پر دباؤ ڈالنے کی سخت مخالفت بھی کررہے ہیں ۔ عوام میں اعتماد کی بحالی اور عوام کیلئے پرسکون انداز میں سختی والا ماحول قبول کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس جانب اقدامات کو اولین ترجیح دیں ۔