تلنگانہ میں 13 دن کے دوران ڈائیل 100 کو 7679 شکایتیں
حیدرآباد :۔ لاک ڈاؤن میں خواتین پر مظالم اور ہراسانیوں کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے ریاست میں 31 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے ۔ صرف صبح 6 تا 10 بجے تک لاک ڈاؤن میں نرمی دی گئی ہے ۔ ایمرجنسی کے سوا لوگوں کو 10 بجے کے بعد گھروں سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہر کوئی گھروں تک محدود ہوگئے ہیں جس سے گھروں میں خواتین پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ خواتین پر شوہروں کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان کی ہراسانیاں اور مظالم میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ریاست میں 12 مئی سے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے ۔ تب سے 24 مئی تک ڈائیل 100 کو 47,690 شکایتیں وصول ہوئی ہیں ۔ جس میں خواتین سے متعلق 7679 شکایتیں ہیں جس میں ہراسانیوں کے 2752 اور گھریلو تشدد کے 4395 شکایتیں شامل ہیں اور ساتھ ہی جنسی ہراسانی کے بھی 44 کیسیس ہیں ۔ دو خواتین نے جہیز کا مطالبہ کرنے کی شکایت کی ۔ بچپن کی شادیوں کے 75 سائبر کرائم بلیک میلنگ کے 98 کیسیس دیگر وجوہات کے 222 شکایتیں وصول ہوئیں ان تمام کیسیس کو متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ڈائیل 100 شعبہ کے عملہ سے رجوع کردیا گیا ۔ چوری کے 1928 خود کشی پر 593 سڑک حادثات پر 1316 شکایتیں وصول ہونے کی پولیس عہدیداروں نے توثیق کی ہے ۔ لاک ڈاؤن سے متعلق 6431 کیسیس درج ہوئے جس میں زیادہ تعداد میں عوام کے جمع ہونے پر 3121 کیسیس درج ہوئے وقت ختم ہوجانے پر دوکانات کھلے رکھنے والے 1947 افراد کے خلاف کیسیس درج کئے گئے ۔۔