مسلمانوں میں بے چینی ، سیاسی قائدین اور مذہبی شخصیتیںتوجہ دیں
حیدرآباد: حکومت نے کورونا کیسیس میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کے اوقات میں اضافہ کردیا ہے لیکن مساجد میں نماز کی اجازت بحال نہیں کی گئی جس کے سبب عام مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر کے بعد جو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا ، اس میں مساجد میں محدود تعداد کے ساتھ نمازوں کی اجازت دی گئی تھی جس کے نتیجہ میں ہر مسجد میں پنچوقتہ نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ ادا کی گئی ۔ اب جبکہ دوسری لہر کے بعد جو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ، اس میں حکومت نے تمام مذہبی عبادت گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ دو ماہ سے شہر کی مساجد میں نمازوں کے اہتمام کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ حکومت کے تحت موجود تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد کو احکامات کے تحت بند رکھا گیا ہے ۔ حیدرآباد کی تاریخ میں شائد یہ پہلا موقع ہے جب مکہ مسجد میں نماز جمعہ اور پنچوقتہ نمازوں کا اہتمام نہیں ہوسکا۔ حکومت کے احکامات کو بنیاد بناکر نماز جمعہ کے موقع پر مکہ مسجد کو مقفل کیا جارہا ہے جس سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ لاک ڈاون میں نرمی کے اوقات کو شام 6 بجے تک کردیا گیا لہذا مسلمانوں کی حکومت سے اپیل ہے کہ وہ مساجد میں محدود تعداد کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح نمازوں اور بالخصوص نماز جمعہ کی اجازت دی جائے ۔ مسلمانوں کا احساس ہے کہ مساجد کو عبادتوں سے محروم رکھنے کے بجائے محدود مصلیوں کے ساتھ نمازوں کے اہتمام کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ حال ہی میں لاک ڈاؤن سے قبل پولیس عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں مفتیان کرام نے واضح کردیا تھا کہ مساجد کو ویران رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مسلم عوامی نمائندوں اور علماء مشائخین کے علاوہ برسر اقتدار پارٹی کے مسلم قائدین کو اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے مساجد میں نمازوں کی بحالی کو یقینی بنانا چاہئے ۔ نرمی کے اوقات میں بازاروں میں بے ہنگم ہجوم دکھائی دیتا ہے لیکن حکومت کو صرف عبادتگاہوں میں پابندی کی فکر ہے۔ اب جبکہ شام 6 بجے تک لاک ڈاؤن میں نرمی دی جارہی ہے ، لہذا فجر تا مغرب مساجد میں نمازوں کے اہتمام کی کسی پابندی کے بغیر اجازت دی جائے جبکہ عشاء کیلئے محدود تعداد کا تعین ہو۔