عید سے عین قبل لاک ڈاؤن سے تاجرین ، ملازمین اور عوام میں شدید ناراضگی
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میںلاک ڈاؤن کے فیصلہ کے ساتھ صبح کی اولین ساعتوںمیں 6تا 10 بجے کے دوران تجارتی اداروں کو کھلا رکھنے کی اجازت کے سبب شہر حیدرآبادکے بیشتر تجارتی بازاروں میں صبح سے ہی گہما گہمی دیکھی گئی اور جو لوگ عید کی خریداری کرنے کے لئے تیار تھے اور اچانک لاک ڈاؤن کے سبب تیاری نہیں کرپائے تھے یا جن لوگوں کے کپڑے درزی کے پاس تھے ان لوگوں کو صبح کی اولین ساعتوں میں 6تا10 بجے کے درمیان ان کاموں کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس فیصلہ سے تجارتی مراکز پر خدمات انجام دینے والے سیلز مین اور دیگر ملازمین میں بھی ناراضگی پائی جانے لگی ہے کیونکہ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا جب تمام ملازمین کو ماہ رمضان المبارک کے دوران کی جانے والی محنت کی اجرت حاصل ہوتی ہے ۔ بیشتر تاجرین کی جانب سے ملازمین کو چاند رات کے موقع پر اجرت ادا کی جاتی ہے اور اس اجرت کے ذریعہ ہی وہ عید الفطر مناتے ہیں۔ عید سے عین قبل لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے تاجرین‘ ملازمین کے علاوہ شہریو ںمیں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت نے عوام کو مسلسل یہ تیقن دیا تھا کہ ریاست میں کوئی لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے بعد اس طرح کے فیصلہ کے سبب تاجرین کو ہی نہیں گاہکوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے تمام بازاروں میں صبح کی اولین ساعتوں میں گاہکوں کے ہجوم کے باوجود پولیس کی جانب سے کسی قسم کی سختی نہیں کی گئی اور صبح 6بجے تا10 بجے دن کے دوران دی گئی رعایت کے اوقات میں کوئی مشکلات پیدا نہیں کی گئیں۔ 10بجے کے بعد پرانے شہر کے بیشتر علاقو ںمیں پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی نگرانی میں 10 بجے کے بعد بازاروں کو بند کروادیا گیا اور شہر کے کئی علاقوں میں بازاروں کو مکمل بند کروانے کے بعد میڈیکل شاپس کو کھولنے کی اجازت فراہم کی گئی ۔ گنجان آبادیوں اور سلم علاقوں میں جاری سرگرمیوں پر پولیس کی جانب سے خصوصی نظر رکھی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ میڈیکل شاپس اور دیگر مقامات جن پر لاک ڈاؤن کی تحدیدات عائد نہیں ہوتی ان مقامات پر بھی اگر سماجی فاصلہ اور ماسک کے بغیر لوگ نظر آتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کرنے کے علاوہ ان تجارتی ادارو ںاور دواخانوں کے علاوہ میڈیکل شاپس کو چالان کیا جائے گا۔