لاک ڈاؤن میں ریلیف کے نام پر فرضی افراد اور ادارے سرگرم

   

Ferty9 Clinic

حقیقی اداروں کو مشکلات، اہل خیر حضرات مکمل معلومات کے بعد عطیات دیں

حیدرآباد۔/9 مئی، ( سیاست نیوز) گزشتہ تقریباً 48 دنوں سے جاری لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں پریشان حال غریب خاندانوں کے مسائل کا اندازہ کرنا مشکل ہے تو دوسری طرف غریبوں کی مدد کے نام پر کئی فرضی ادارے اور افراد عطیات کی وصولی کے ذریعہ اپنی جیب گرم کررہے ہیں۔ دھوکہ دہی کے عادی اور ماہر افراد اور اداروں کیلئے لاک ڈاؤن کی طوالت ایک نعمت ثابت ہوئی ہے اور اس موقع کا وہ بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے صرف غریب ہی نہیں بلکہ متوسط خاندان بھی معاشی مسائل کے سبب روز مرہ کی ضرورتوں کی تکمیل کے سلسلہ میں پریشان ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران رمضان المبارک کے آغاز کے نتیجہ میں سحر و افطار کی ضرورتوں کی تکمیل کے سلسلہ میں غریب و متوسط افراد کو اہل خیر حضرات کی طرف دیکھنے کی طرف مجبور کردیا۔ لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے شہر اور اضلاع میں مختلف اہل خیر حضرات اور غیر سیاسی تنظیموں اور این جی اوز نے ریلیف کے کاموں کا آغاز کیا۔ مذہبی جماعتوں کی جانب سے بھی غریبوں میں راشن، ترکاری اور تیار شدہ غذا کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ان حالات میں چند موقع پرست عناصر بھی سرگرم ہوگئے جو مختلف فرضی تنظیموں کے نام سے عطیات کی وصولی کا آغاز کرچکے ہیں۔ غریبوں میں اناج کی تقسیم سے متعلق دیگر اداروں کی سرگرمیوں پر مبنی تصاویر کو اپنے کارنامہ کے طور پر سوشیل میڈیا میں پیش کرتے ہوئے ملک اور بیرون ملک سے بھاری عطیات وصول کئے جارہے ہیں۔ کئی ایسے اداروں کے بارے میں سوشیل میڈیا میں حقائق منظر عام پر آنے کے بعد انہوں نے دیگر نئے ناموں کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک اور بیرون ملک سے اہل خیر حضرات رمضان المبارک میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے طور پر ریلیف کے کاموں میں کھل کر مدد کررہے ہیں وہ غریبوں میں اجناس کی تقسیم کے لئے انفرادی شخصیتوں اور اداروں کو بھاری عطیات روانہ کررہے ہیں۔ ایسے فرضی ادارے اور افراد جن کا مقصد صرف دولت اکٹھا کرنا ہے وہ بہ مشکل 10 فیصد رقم تقسیم پر خرچ کرتے ہوئے باقی رقم ہڑپ کررہے ہیں۔ دوچار دن کے اجناس کی تقسیم کے ذریعہ ایک ماہ کا پیاکیج حوالے کرنے کا سوشیل میڈیا میں دعویٰ کیا جاتا ہے۔ بعض اداروں نے فرضی ٹیلی فون کال کے آڈیوز سوشیل میڈیا میں وائرل کرتے ہوئے عطیات حاصل کرنے کا نیا طریقہ کار اختیار کرلیا ہے۔ فرضی اداروں کی سرگرمیوں کے سبب حقیقی طور پر کام کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کو عطیات کی حصولی میں کمی ہوئی ہے۔ ایسے وقت جبکہ اہل خیر حضرات کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہے انہیں چاہیئے کہ وہ کسی بھی ادارہ یا شخصیت کو رقم دینے سے قبل اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرلیں۔ صرف سوشیل میڈیا کی تصاویر اور ویڈیوز پر اعتبار کرتے ہوئے اگر رقم دی جائے گی تو اس کا صحیح استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ دوسروں کی جانب سے تقسیم کی تصاویر اور ویڈیوز سوشیل میڈیا میں عام ہوچکی ہیں۔ بعض افراد تو اہل خیر حضرات سے حاصل کردہ غذائی اجناس کے کٹس کو اپنے کارنامہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے مزید غریبوں کی امداد کے نام پر اپنے اکاؤنٹ نمبرس سوشیل میڈیا میں وائرل کررہے ہیں۔ الغرض لاک ڈاؤن نے غریبوں کے نام پر کئی فرضی اداروں کی چاندنی کردی ہے۔ عوام کو چاہیئے کہ وہ عطیات کی روانگی سے قبل اداروں اور افراد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتے ہوئے اطمینان کرلیں۔ اداروں کو عطیات کی فراہمی کے وقت انہیں پابند کیا جانا چاہیئے کہ اس رقم سے جن غریبوں کو امداد فراہم کی جائے ان کی تفصیلات روانہ کریں۔ ممکن ہو تو چند کے ٹیلی فون نمبرات بھی حاصل کئے جائیں تاکہ امداد کی وصولی کے بارے میں توثیق ہوسکے۔