لاک ڈاؤن میں عوام کے وزن میں اضافہ ، شوگر کا خطرہ

   

وائرس سے متاثرہ افراد کو مستقبل میں متعدد مسائل سے دوچار ، سروے میں انکشاف
حیدرآباد : لاک ڈاون کے دوران عوام نا صرف گھروں تک محدود ہوگئے تھے بلکہ بلا ترتیب اور زیادہ غذائی اشیاء کے استعمال سے 40 فیصد عوام کا وزن بڑھ گیا ہے ۔ جس میں 7 فیصد عوام کو شوگر کا خطرہ ہے ۔ حال ہی ایمس کے پروفیسرس کی جانب سے کئے گئے سروے کو ’ ڈیابٹس اینڈ میٹا بالک سنڈروم ‘ کے جنرل نے شائع کیا ہے ۔ کورونا کا انسانی زندگیوں پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے ۔ ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس وباء کا شکار ہونے والے افراد مستقبل میں کئی مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ حال میں ایمس کے پروفیسرس کی جانب سے کئے گئے سروے کی رپورٹ ’ ڈیابٹس اینڈ میٹا بالک سنڈروم جنرل ‘ نے شائع کی ہے ۔ جس کے مطابق کورونا اور لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی روزمرہ کی عادتوں میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے ۔ جس سے موٹاپا اور ذیابیطس کے خطرات بڑھ گئے ہیں ۔ لاک ڈاؤن کے باعث عوام گھروں تک محدود تھے ضرورت کے مطابق ورزش نہیں کی ۔ تغذیہ بخش غذا کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے 40 فیصد عوام کا وزن بڑھ گیا ہے ۔ ان میں 7 فیصد افراد کے شوگر سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ اس سروے میں جنس ، عمر ، وزن ، فیملی ہسٹری ، ورزش کو بنیاد بناکر سروے کرنے کا جنرل میں انکشاف کیا گیا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران 38 فیصد عوام نے ہی ہفتہ میں 3 دن تک 30-45 منٹ تک چہل قدمی کرنے کا پتہ چلا ہے ۔ بعض دوسرے سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ زیادہ موٹاپا رکھنے والوں کو کورونا کے خطرات ہیں اور ایسے افراد کے اموات کی شرح زیادہ ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے ۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران جن کا وزن بڑھا ہے ۔ وہ مزید زیادہ احتیاط کریں ۔ 30 سال عمر مکمل کرنے والوں کو خون میں گلوکوز کا ٹسٹ کرانے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران نان ڈیابٹک ( شوگر کا مرض ) نہ رکھنے والوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں 40 فیصد عوام کا وزن بڑھا ہے ۔ 41 فیصد افراد کے وزن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ جب کہ 19 فیصد عوام کا وزن گھٹا ہے ۔ 0.1-5 کیلو تک 40 فیصد عوام کا وزن بڑھا ہے ۔ ان میں 2.1-5 کیلو تک وزن بڑھنے والوں کی تعداد 16 فیصد ہے ۔ جن میں 7 فیصد افراد کو شوگر کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ ایمس کے پروفیسر ڈاکٹر انوپ مشرا نے بتایا کہ وزن بڑھنے والے جن 7 فیصد عوام کو ذیابیطس کا خطرہ ہے ان میں علامتیں فوری نظر نہیں آئیں گے بلکہ مستقبل میں ظاہر ہونگے ۔۔