سماجی فاصلہ اور دیگر قواعد کی خلاف ورزی عوام کے لیے مشکلات کا موجب
حیدرآباد۔20مئی(سیاست نیوز) حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے دوران حالات بتدریج معمول پر آنے لگے ہیں اور لوگ اب لاک ڈاؤن کی زندگی سے عاجز آچکے ہیں ۔ گذشتہ قریب دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی بڑی تعداد نے حکومت سے تعاون کیا اور جو کچھ بھی حالات ہو ان حالات میں حکومت کا ساتھ دیا لیکن اب عوام ان حالات سے عاجز آنے لگے ہیں اور وہ گھروں سے نکل پڑے ہیں ۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران بھی شہر حیدرآباد کے مکینوں نے خود کو گھروں کی حد تک محدود کررکھا تھا لیکن اب جو صورتحال ہوتی جا رہی ہے اس صورت میں وہ گھر میں قید رہنے کے موقف میں نہیں ہیں اور وہ آزادی چاہتے ہیں۔ حکومت ہند کی جانب سے دی جانے والی رعایات کے بعد آج شہر کی سڑکوں پر کافی ہجوم دیکھا گیا اور کسی بھی مقام پر کوئی سماجی فاصلہ کا خیال رکھنے کے انتظامات نہیں دیکھے گئے اور کئی علاقو ںمیں شہریوں کو افراد خاندان کے ساتھ گھومتے ہوئے دیکھا گیا ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی سرکردہ بازاروں میں جاری سرگرمیوں کے متعلق محکمہ پولیس کی جانب سے اختیار کی جانے والی خاموشی کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ آمدنی کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے سرکاری اہلکاروں کی جانب سے ان غیر قانونی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے لیکن اس کے جو نقصانات ہوں گے اس کا اندازہ نہیں کیا جار ہاہے بلکہ ان سرگرمیوں میں مدد کرنے والوں کی جانب سے دوسرے معنوں میں شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیاجا رہاہے۔ تجارتی حلقوں کی جانب سے جاری رکھی جانے والی سرگرمیاں شہریوں کے لئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہوں گی لیکن تاجرین اپنے حقیر مفادات کے لئے امت کو بدنام کرنے کی کوششوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ ریاست اور ملک میں مذہبی اور سیاسی قائدین کے علاوہ کئی گوشوں اور تنظیموں کی جانب سے عید سادگی سے منانے کی اپیلوں کے باوجود تجارتی طبقہ کی جانب سے تجارت کے فروغ کی کوشش کی جار ہی ہے اور کئی شہریوں کی جانب سے کپڑوں اور دیگر اشیاء کی خریداری انجام دی جا رہی ہے ۔ متفکر شہریوں کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا جار ہے کہ جب ماہ رمضان المبارک کے دوران قیام اللیل اور نماز پنجگانہ ادا کرنے کی اجازت فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی عید گاہوںاور مساجد میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل ہے ایسے میں نئے کپڑے پہننے کیلئے بے چین لوگ آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں!۔