کروڑہا روپیوں کا تحفظ ممکن ، متعدد شادیوں کی انجام دہی ، دولت مند طبقہ بھی رشتوں کو آسان بنائیں
حیدرآباد۔11مئی(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے دوران نکاح کی تقاریب امت کے لئے ایک بہترین پیغام ہے اور ان نکاح کی تقاریب کو رواج دیتے ہوئے شہر حیدرآباد میں کروڑہا روپئے جو شادی بیاہ کے نام پر سرف کئے جاتے ہیں انہیں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل جو تواریخ طئے کردی گئی تھیں وہ بیشتر شادیاں انجام پا چکی ہیں اور لڑکا اور لڑکی کے گھر والوں پر مشتمل نکاح کی تقریب منعقد ہورہی ہیں جس کے سبب نہ لڑکی والوں پر کوئی بوجھ عائد ہورہا ہے اور نہ ہی لڑکے والوں کو نمائش کرنی پڑرہی ہے بلکہ گھروں میں سادگی کے ساتھ منعقد ہونے والی ان نکاح تقاریب کے رجحان میں اضافہ پر توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ لاک ڈاؤن کے بعد جو معاشی ابتری کے حالات پیداہونے کے علاوہ تقاریب پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے پیش نظر ان لوگوں کو بھی نکاح جیسی سنت ادا کرنے میں کوتاہی اور تاخیر نہیں کرنی چاہئے جو لوگ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے انتظار میں ہیں کہ یہ ختم ہو تو دھوم دھڑاکے ساتھ شادی بیاہ کی تقاریب منعقد کی جائیں ۔ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے بعد بھی جو نیا طرز معاشرت ہوگا اس میں ہجوم کی اجازت نہیں ہوگی اسی لئے غفلت کا شکار ہونے کے بجائے لاک ڈاؤن کے دوران بھی رشتوں کو طئے کیا جاسکتا ہے اور نکاح کی تقاریب آسان اور سادگی کے ساتھ انجام دی جاسکتی ہیں ۔ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ صورتحال کے دوران ماہ رمضان المبارک سے قبل بھی گھروں میں نکاح کا سلسلہ جاری رہا اور جو رشتے طئے کئے جاچکے تھے ان جوڑوں کے نکاح انجام پاتے رہے ہیں اور اسی طرح آئندہ بھی سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے لیکن جو لوگ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے موزو رشتے تلاش میں ہیں وہ فی الحال مکمل طور پر خاموش ہیں جبکہ اس لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران بھی یہ کام انجام دیا جاسکتا ہے اور جوڑوں کی تلاش کو ممکن بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ اب جو نکاح انجام دیئے جائیں گے ان میں جوڑے گھوڑے ‘ لین دین اور پر تکلف دعوتوں کے اہتمام کی گنجائش ہی نہیں رہی تو ایسی صورت میں نکاح کافی آسان ہوجاتا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران نکاح کی سادہ تقاریب افراد خاندان تک بھی محدود نہیں رہ رہی ہیں بلکہ یہ تقاریب اہل خانہ تک ہی محدود ہوچکی ہیں اور لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ ان حالات میں جب اس طرح نکاح کیا جاسکتا ہے تو عام ایام میں کیوں نکاح کو آسان بنانے کے لئے اقدامات ممکن نہیں ہیں!علماء اکرام ‘ زعمائے ملت اور دانشوران قوم کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران اس بات کی تحریک چلائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں مسلمانوں کے ذہنوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ ان 50 یوم کے دوران شہریوں نے سب کچھ رکھتے ہوئے کچھ نہ ہونے کے احساس اور کچھ نہ ہوتے ہوئے زندگی گذارنے کے طریقہ سے قریبی واقفیت حاصل کی ہے اور ان میں لوگوں کی تکالیف اور فضول خرچی کے نقصانات کا بھی احساس ہونے لگا ہے ان حالات میں اگر ذمہ داران ملت اسلامیہ کی جانب سے شعور بیداری مہم چلائی جاتی ہے تو شہر حیدرآباد سے اسراف والی شادیوں کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے ۔