سرکاری خزانہ کو نقصان کی پرواہ نہ کریں، عوام کی زندگی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی
حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ضلع کلکٹرس اور پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ ریاستی خزانے کو نقصان کی پرواہ کئے بغیر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عوام کی صحت کے تحفظ کو اہمیت دی جائے اور ریاست بھر میں لاک ڈاؤن کے قواعد سختی سے نافذ کئے جائیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ورنگل کے دورہ کے موقع پر تمام ضلع کلکٹرس ، ڈائرکٹر جنرل پولیس اور پولیس کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں روہنی کارتی سیزن شروع ہورہا ہے اور کسان زرعی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے ، لہذا عہدیداروں کو چاہئے کہ آئندہ ایک ہفتہ اور 10 دنوں کے دوران کسانوں سے دھان کی خریدی کا عمل مکمل کرلیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایم جی ایم ہاسپٹل کے قریب واقع سنٹرل جیل کو منتقل کرتے ہوئے وہاں مدر چائلڈ تحفظ کے لئے عصری سہولتوں کے ساتھ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل قائم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چیرلہ پلی اوپن جیل کی طرز پر ورنگل میں وسیع و عریض اراضی پر اوپن ایر جیل تعمیر کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس اور پولیس عہدیداروں سے ہر ضلع میں کورونا کی صورتحال اور اس پر قابو پانے کیلئے کئے جارہے اقدامات پر تفصیلات حاصل کیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کورونا پر مکمل قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن پر عمل اوری کے موقع پر عہدیدار ریاستی خزانہ کو نقصان کی کوئی فکر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹر جنرل پولیس اور ضلع کلکٹرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ قانون کے تحت لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ چار گھنٹوں تک نرمی کے ماسوا باقی 20 گھنٹوں میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اہم خدمات کے علاوہ پاس ہولڈرس کو چھوڑ کر کسی اور کو نکلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے نفاذ میں کوئی تساہل نہیں ہونا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر سے انہوں نے دیکھا کہ جگہ جگہ دھان کا ذخیرہ موجود ہے۔ عہدیداروں کو چاہئے کہ دھان کی خریدی کیلئے فوری اقدامات کریں۔ ویڈیو کانفرنس کے دوران چیف منسٹر نے ہر ضلع کلکٹر سے بات چیت کی اور لاک ڈاؤن ، دھان کی خریدی اور کورونا کی صورتحال پر سوالات کئے ۔ چیف منسٹر نے اضلاع میں لاک ڈاون پر سختی سے عمل آوری نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بھی لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کیا جائے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دیہی علاقوں میں سرپنچ اور دیگر عوامی نمائندے رضاکارانہ طور پر لاک ڈاؤن پر عمل کر رہے ہیں۔ شہروں اور ٹاونس میں لاک ڈاؤن پر مؤثر عمل آوری کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صبح 10 بجے کے بعد پاس ہولڈرس کے علاوہ کسی کو گھومنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ انہوں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے اضلاع میں ادویات ، آکسیجن اور دیگر طبی سہولتوں کے بارے میں استفسار کیا ۔ انہوں نے کہا پہلا فیور سروے مکمل ہونے سے قبل ہی دوسرے سروے کا آغاز کردیا جائے ۔ دواخانوں میں صحت و صفائی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا یادادری ، ناگر کرنول اور دیگر اضلاع میں کورونا کیسیس کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ان اضلاع میں کورونا کی صورتحال کا شخصی طور پر جائزہ لینے کیلئے ہیلی کاپٹر کو تیار رکھیں۔ چیف منسٹر ان اضلاع کے دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں کی سرحدوں سے متصل اضلاع کے کلکٹرس کو کورونا پر قابو پانے کے سلسلہ میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ویڈیو کانفرنس کے موقع پر ریاستی وزراء دیاکر راؤ ، ستیہ وتی راتھوڑ، ارکان پارلیمنٹ بی پرکاش ، ای دیاکر ، چیف سکریٹری سومیش کمار ، ارکان مقننہ کڈیم سری ہری ، راجیشور ریڈی ، سرینواس ریڈی ، گورنمنٹ چیف وہپ ونئے بھاسکر کے علاوہ دیگر عوامی نمائندے اور اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔