رات کی تاریکی میں کپڑے کی ہول سیل مارکٹ میں زبردست سرگرمیاں
حیدرآباد۔/16 مئی، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں کورونا کے کیسس میں اضافہ کے نتیجہ میں اسے ریڈ زون میں شامل کیا گیا ہے اور بڑے پیمانہ پر تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے کاروباریوں نے ٹھیلہ بنڈیوں پر کپڑے، چپلوں اور خواتین اور بچوں سے متعلق مختلف اشیاء کے کاروبار کا آغاز کیا لیکن لاک ڈاؤن کی تحدیدات کا بہانہ بناکر پولیس نے چھوٹے کاروباریوں کے سامان کو ضبط کرکے ان پر مقدمات درج کئے۔ لاک ڈاؤن کی پابندیاں ظاہر ہے کہ چھوٹے اور بڑے دونوں تاجروں کیلئے ہیں۔ جب غریب ٹھیلہ بنڈی رانوں پر پولیس کارروائی کرتی ہے تو اسے بڑے کاروباریوں کے ساتھ بھی یکساں سلوک کرنا چاہیئے۔ ایک طرف پرانے شہر میں چھوٹے کاروباری پولیس کے نشانہ پر ہیں تو دوسری طرف پرانے شہر کے ہی پتھر گٹی علاقہ میں کپڑوں کے کاروباری ہول سیل مارکٹ میں کھلے عام کاروبار کررہے ہیں۔کپڑوں کی تجارت پر ریڈ زون علاقہ میں پابندی عائد ہے لیکن پولیس سے ملی بھگت سے بڑے کاروباری اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رات دیر گئے یہ کاروبار شروع ہوتا ہے جو صبح 8 بجے تک جاری رہتا ہے۔ رات کی تاریکی میں آٹو، ٹرالیوں اور رکشوں میں کپڑا منتقل کیا جارہا ہے۔ بعض تاجر اپنی ٹو وہیلرس پر کپڑا منتقل کررہے ہیں۔ ہول سیل مارکٹ کی یہ سرگرمیاں پولیس کے علم میں ضرور ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بڑے تاجروں نے کسی طرح پولیس کو منوایا لیا ہے لہذا دیکھ کر بھی پولیس انجان بن رہی ہے۔ ان علاقوں میں رہائشی مکانات و اپارٹمنٹس کو ان سرگرمیوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔ رات دیر گئے لاریوں، ٹرالیوں اور آٹوز کی آمدورفت نے زندگی اجیرن بنادی ہے۔ پولیس کو چاہیئے کہ جس طرح غریب کاروباریوں پر کارروائی کررہی ہے اسی طرح کپڑوں کی ہول سیل مارکٹ کی غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے۔ ظاہر ہے کہ ہول سیل مارکٹ سے کپڑا حاصل کرنے والے افراد عید سے قبل کسی نہ کسی طرح کپڑا فروخت کرنے کی کوشش ضرور کریں گے جبکہ حکومت عیدتک کپڑوں سے متعلق تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس سے سماجی دوری کی شرط نظرانداز ہوجائے گی۔