کیرالا طرز پر تین مرحلوں پر غور ، مختلف پابندیاں ، اوقات اور نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی تجویز
حیدرآباد۔9اپریل(سیاست نیوز) ملک کی بیشتر ریاستوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے سلسلہ میں علحدہ علحدہ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاستیں اپنی سہولت کے اعتبار سے لاک ڈاؤن کو بتدریج ختم کرنے کے اقدامات کریں گی۔ ریاست کیرالہ نے جو منصوبہ بندی کی ہے اس کے مطابق کیرالہ میں 3مرحلوں کے دوران لاک ڈاؤن ختم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور ان مراحل میں 14تا28 یوم کا وقفہ رہے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کیرالہ کی جانب سے جو مرحلہ وار انداز میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اس پر تلنگانہ میں بھی عمل آوری کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ اسی طرز پر ریاست تلنگانہ میں بھی مرحلہ وار انداز میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ کیرالہ میں تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق ریاست میں پہلے مرحلہ کے دوران جو تحدیدات عائد ہوں گی ان میں چہرے پر ماسک کا لزوم‘شناختی کارڈ کے ساتھ باہر نکلنے اور گھر سے نکلنے کی وجہ بتانے کا لزوم‘65 سال سے زائد عمر والوں پر گھر سے باہر نکلنے پر امتناع‘سرکاری دفاتر‘بینک وغیرہ کو 50 فیصد عملہ کے ساتھ خدمات انجام دینے کی سہولت اتوار کے دن مکمل بند اور کسی بھی گاڑی کی آمد و رفت کی اجازت نہیں ہوگی‘ہر گھر سے ایک فرد کو 3گھنٹے کے لئے باہر نکلنے کی اجازت حاصل رہے گی‘خانگی گاڑیوں کے لئے Odd-Even نمبر کا لزوم ‘کوئی پرواز یا ٹرین کی سہولت نہیں ہوگی اور نہ ہی بیرون ریاست کسی شخص کو ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔اسی طرح 5افراد سے زیادہ کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی‘کوئی مذہبی اجتماع نہیں ہوگا‘آخری رسومات اور شادیوں کی تقاریب میں 10 سے زیادہ افراد کو شرکت کی اجازت حاصل نہیں رہے گی۔سوپر مارکٹس ‘مالس‘سینماگھر اور بار ریستوراں پہلے مرحلہ میں مکمل بند رہیں گے ۔ حکومت کیرالہ کی جانب سے تیار کئے گئے دوسرے مرحلہ کے منصوبہ کے تحت آٹو ‘ ٹیکسی کی سہولت کے آغاز کا منصوبہ ہے لیکن اس کے لئے 3افراد کی شرط کا لزوم عائد رہے گا۔شہر میں موضع یا مختصر مسافت کیلئے بس خدمات شروع کی جائیں گی لیکن اس میں ایک نشست پر صرف ایک شخص کو بیٹھنے کی اجازت حاصل رہے گی‘مائیکرو‘ اسمال انڈسٹری اور MNREGA کے تحت جاری کاموں کو مختصر عملہ کے ساتھ شروع کیا جائے گا‘آخری رسومات اور شادیوں کی تقاریب میں 20 افراد کو شرکت کی اجازت حاصل ہوگی‘شہریوں کو صبح 7:30 بجے سے قبل 30 منٹ چہل قدمی کی اجازت فراہم کی جائے گی۔تیسرے مرحلہ میں ریاست کیرالہ نے اندرون ملک پروازوں کو شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن اس میں بھی عام شہریوں کو اجازت نہیں رہے گی بلکہ لازمی خدمات کے لئے سفر کرنے والے مسافرین ڈاکٹرس‘ طبی عملہ ‘ مریض وغیرہ کوہی اجازت حاصل رہے گی۔اسی طرح اندرون ریاست بس خدمات کو بحال کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے لیکن بس میں صرف دو تہائی مسافرین کو سفر کی اجازت حاصل رہے گی۔رہائشی‘ اقامتی ہاسٹلس کی خدمات کا احیاء کیا جائے گا‘انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کو محدود خدمات کے ساتھ کشادگی کی اجازت دی جائے گی لیکن اس تیسرے مرحلہ میں بھی بڑے سیاسی ‘ مذہبی اجتماعات اور تقاریب پر امتناع برقرار رہے گا۔تیسرے مرحلہ میں کیرالہ میں آن لائن شراب فروخت کی جائے گی اور ریاست میں داخل ہونے والے کسی بھی شخص کے لئے 14یوم کے قرنطینہ کا لزوم عائد رہے گا۔ حکومت کیرالہ کی جانب سے کورونا وائر س سے نجات حاصل کرنے کیلئے جو منصوبہ بندی کی گئی ہے اس کا حکومت تلنگانہ کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تلنگانہ میں کسی بھی طرح سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے ہر وہ طریقہ کار اختیار کیا جائے جو کامیاب ثابت ہورہا ہے۔