لاک ڈاؤن کی رعایتوں کے دوران تجارتی سرگرمیاں عروج پر

,

   

سماجی فاصلہ اور دیگر شرائط نظر انداز، بازاروں میں غیر معمولی ہجوم اورٹریفک سے کورونا کا خطرہ
حیدرآباد ۔13۔ مئی(سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں لاک ڈاؤن کی رعایتوں کے دوران تجارتی سرگرمیوں میں حکام کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ رمضان المبارک کے پیش نظر حکومت نے دن کے اوقات میں غذائی اجناس اور فروٹس کی خریدی کے سلسلہ میں رعایت دی ہے لیکن اس رعایت کا فائدہ اٹھاکر دیگر تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں لاک ڈاؤن کے باوجود بازاروں میں غیر معمولی ہجوم دیکھا جارہا ہے۔ دکانات پر سماجی فاصلہ کا کوئی نظم نہیں ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرہ کے پیش نظر حکومت نے ہر شخص کیلئے ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا لیکن 50 فیصد سے زائد افراد ماسک کے بغیر بازاروں میں گھوم رہے ہیں جس سے وائرس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پولیس اور دیگر محکمہ جات نے لاک ڈاؤن کے درمیان جاری تجارتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو واقف کرایا ہے ۔ حکام نے ابتداء میں سہ پہر 3-5 بجے محدود پیمانہ پر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن رمضان المبارک کے پیش نظر غیر معمولی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ صبح سے ہی پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں دکانات کھلی دیکھی جارہی ہیں اور بازاروں میں چہل پہل کا آغاز ہورہا ہے۔ کئی ایسی تجارتی سرگرمیاں جن کی اجازت نہیں ہے ، وہ بھی ٹھیلہ بنڈیوں پر فروخت کی جارہی ہے۔ کپڑے ، دیگر ملبوسات اور چپل اور جوتے بھی ٹھیلہ بنڈیوں پر فروخت کئے جارہے ہیں جس سے رمضان کی خریداری کا ماحول پیدا ہوچکا ہے ۔ چوڑیاں اور خواتین سے متعلق دیگر اشیاء کی فروغ بھی ٹھیلہ بنڈیوں پر شروع کردی گئی جس کے نتیجہ میں بازاروں میں ہجوم بڑھ چکا ہے ۔

پرانے شہر کے علاقوں کے علاوہ نئے شہر میں مسلم آبادی والے علاقوں میں جاری ان سرگرمیوں میں حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ کورونا وائرس کے خطرہ کا کوئی خوف دکھائی نہیں دیتا جس پر حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کیسس میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے ۔ ابتداء میں پولیس کی جانب سے سختی کی گئی لیکن اب تو صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور دن کے اوقات میں لاک ڈاؤن کا کوئی تصور باقی نہیں رہا ۔ عوام میں کورونا سے متعلق شعور بیداری مہم کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت کے حکام نے بھی اس صورتحال کے بارے میں حکومت سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ عوامی نمائندوں اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں احتیاطی تدابیر کے بارے میں شعور بیدار کرتے ہوئے اپنے طور پر تحدیدات کی پابندی کے لئے راضی کریں تاکہ شہر کو وائرس کے خطرہ سے بچایا جاسکے ۔ بازاروں کی صورتحال دیکھ کر کئی باشعور افراد گھروں میں بند رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔