جاریہ سال سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میں 60 تا 80 فیصد اور تعمیری اخراجات میں 30 فیصد کا اضافہ
حیدرآباد ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سمنٹ اور لوہے کی پیداوار کمی آئی ہے ۔ طلب میں اضافہ کے بعد کمپنیوں کی جانب سے لوہے اور سمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دوسری تعمیری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ جاریہ سال سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میں 60 تا 80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جس سے تعمیری شعبہ بڑی حد تک متاثر ہوا ہے ۔ نئے تعمیرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے ۔ کئی عمارتوں کی تعمیرات درمیان میں رک گئی ہے ۔ گذشتہ 5 سال کا جائزہ لے تو جاریہ سال قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ سمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میں اضافہ سے مکانات کی تعمیری اخراجات میں اچانک 15 تا 25 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرنے اور لاک ڈاؤن نافذ ہونیکی وجہ سے سمنٹ اور لوہے کی پیداوار گھٹ گئی ہے ۔ مزدور دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ایک ماہ سے پیداوار پر اس کا گہرا اثر پڑا ہے ۔ برائے نام مزدوری سے پیداواری کا عمل جاری رکھا گیا ہے ۔ حمالیوں اور گاڑیوں کے ڈرائیورس کی قلت کی وجہ سے سمنٹ اور لوہے کی ٹرانسپورٹ میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ایک سمنٹ کے تھیلہ کی قیمت بڑھ کر 420 تا 450 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ ایک ٹن لوہے کی قیمت 60 ہزار کو عبور کرچکی ہے ۔ مشہور برانڈ کمپنیوں کا لوہا 70 ہزار ٹن روپئے میں بھی فروخت ہو رہا ہے ۔