لاک ڈاؤن کے اندیشہ کے تحت تلنگانہ سے ہزاروں مائیگرنٹ ورکرس وطن واپس

   

نائیٹ کرفیو سے کاروبار بری طرح متاثر، روزگار سے محرومی اور تنخواہوں میں کمی اہم وجوہات
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کیسس میں اضافہ کے باوجود حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے نائیٹ کرفیو کے نفاذ کو ترجیح دی ہے لیکن عوام کے درمیان مکمل لاک ڈاؤن سے متعلق اندیشے اب بھی برقرار ہیں۔ نائیٹ کرفیو کے نفاذ نے تجارتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں مائیگرنٹ لیبرس روزگار سے محروم ہوچکے ہیں۔ رمضان المبارک میں ایک اندازہ کے مطابق گریٹر حیدرآباد کے حدود میں مختلف شعبہ جات میں ایک لاکھ سے زائد مائیگرنٹ ورکرس و لیبرس کو ایک ماہ کے روزگار کی ضمانت ہوتی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے نائیٹ کرفیو نافذ کردیا ہے جس کے سبب شام سے ہی کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔ دن کے اوقات میں بھی کاروبار کی کمی کے باعث بیشتر مائیگرنٹ ورکرس روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور نئے ورکرس کو روزگار کے حصول کے سلسلہ میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔بتایا جاتا ہے کہ نائیٹ کرفیو کے نفاذ نے تلنگانہ سے ہزاروں مائیگرنٹ ورکرس کو اپنے آبائی مقامات واپسی کیلئے مجبور کردیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مائیگرنٹ ورکرس کی ٹرینوں، بسوں اور خانگی ٹرانسپورٹ کے ذریعہ واپسی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ بہار، اتر پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مائیگرنٹ ورکرس پہلی لہر کی طرح لاک ڈاؤن کے خوف سے آبائی مقامات واپس ہورہے ہیں۔ ورکرس کی واپسی کے نتیجہ میں کئی صنعتوں میں پیداوار بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صنعتوں کے مالکین نے لاک ڈاؤن کی صورت میں رہائش اور طعام کے انتظامات کا تیقن دینے سے انکار کیا ہے۔ پہلی لہر میں صنعتوں پر اس وقت بھاری بوجھ پڑا جب انہیں دو ماہ تک ورکرس کے قیام و طعام کے انتظامات کرنے پڑے۔ تاریخی چارمینار کے اطراف و اکناف کپڑوں، چوڑیوں اور سونا ، چاندی کے تاجروں نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 70 فیصد تک کاروبار گھٹ چکا ہے۔ دن کے اوقات میں لوگ انتہائی ضروری سامان کی خریداری کیلئے سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ رمضان کی خریداری میں عوام کی ترجیح قیمتی اشیاء کے بجائے کام چلاؤ اشیاء کی سستے داموں خریدی پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سونا چاندی کے کاروبار سے وابستہ مائیگرنٹ ورکرس کا تعلق بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، مہاراشٹرا ، کرناٹک اور مغربی بنگال سے ہے۔ دکان مالکین ورکرس کو آبائی مقامات روانگی سے روکنے سے قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تعمیری ورکرس کی تعداد بھی کافی گھٹ چکی ہے۔ عوام کو اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی وقت مکمل لاک ڈاؤن ہوسکتا ہے۔ ویسے بھی نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے بعد سے ورکرس کی تنخواہوں میں کمی کردی گئی کیونکہ کام کے اوقات میں کمی ہوچکی ہے۔ اسی دوران تلنگانہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ مائیگرنٹ ورکرس کی واپسی کو روکنے کیلئے شیلٹرس کا انتظام کیا جائے۔