حیدرآباد ۔12۔ مئی(سیاست نیوز) حیدرآباد میں ہر سال مرگ کے موقع پر دمہ کی دوا مچھلی میں تقسیم کرنے والے بتھنی خاندان میں لاک ڈاون کے سبب اس سال مچھلی کی دوا تقسیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بتھنی خاندان کے نمائندے بتھنی ہری ناتھ گوڑ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے سبب جاریہ سال مچھلی کی دوا نہیں دی جائے گی۔ گزشتہ کئی دہوں سے یہ خاندان مرگ کے موقع پر حیدرآباد میں دوا تقسیم کرتا ہے۔ جاریہ سال 8 اور 9 جون کو مرگ کا امکان ہے ، تاہم اس خاندان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طورپر اپنا پروگرام منسوخ کردیا ہے ۔ دوائی کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں مریض حیدرآباد کا رخ کرتے رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب ہجوم کو اکھٹا کرنے کی اجازت نہیں ہے اور مچھلی کی دوا کے حصول کے لئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا دشوار ہے۔ لہذا جاریہ سال مچھلی کی دوا نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مریضوں سے اپیل کی کہ وہ حیدرآباد آنے کی زحمت نہ کریں۔ ہری ناتھ گوڑ نے بعض گوشوں سے مچھلی کی دوا سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ ان کے خاندان کا نام لے کر بعض افراد عوام کو سوشیل میڈیا کے ذریعہ گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
