لاک ڈاؤن کے باعث بچہ مزدوری میں اضافہ

   

حیدرآباد۔3اگسٹ(سیاست نیوز) کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بچہ مزدوری میں اضافہ ہونے لگا ہے۔سال 2019کے اختتام تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ریاست تلنگانہ میں بچہ مزدوری پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا تھا لیکن 2020 اور 2021 کے درمیان ریاست تلنگانہ میں بچہ مزدوری میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے بعد ہی حقوق اطفال کے لئے خدمات انجام دینے والی تنظیموں کے ذمہ دارو ںکی جانب سے اس خدشہ کا اظہار کیا جانے لگا تھا کہ ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی کئی ریاستوں میں بچہ مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ریکار ڈ کیا جائے گا کیونکہ اسکولوں کو بند کردیئے جانے کے علاوہ گھریلو آمدنی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے ان خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا اور کہا جا رہاہے کہ اگر لاک ڈاؤن اور اسکولوں کو بند رکھنے کا سلسلہ جاری رہا تو ایسی صورت میں بچہ مزدوری میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے کئی اضلاع میں بچہ مزدوری میں ریکارڈ ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ گھریلو آمدنی میں کمی کے سبب بچوں کو والدین مزدوری کے لئے روانہ کرنے لگے ہیں اور اسکولوں کو بند رکھے جانے کے سبب بھی بچوں میں مزدوری کے رجحان میں اضافہ ریکارڈکیا جارہاہے۔2020مارچ میں لاک ڈائون کے آغاز کے بعد سے پیدا شدہ صورتحال کے مطابق والدین اپنے بچوں سے مزدوری کروانے لگے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے لیکن انہیں معیاری تعلیم کی سہولت حاصل نہ ہونے کے علاوہ معاشی ابتری کو دیکھتے ہوئے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ بچہ مزدوری پر قابو پانے کے لئے ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ ریاستی ومرکزی حکومت ممکنہ حد تک بچہ مزدوری پر قابو پانے کے اقدامات کر رہی ہے اور مفت تعلیم کی فراہمی کے ذریعہ والدین پر کسی قسم کا بوجھ عائد نہ ہو اس با ت کی کوشش کی جا رہی ہے۔حکومتوں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ بچہ مزدوری اور بندھوا مزدورکی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بچوں کو بچانے کے لئے محکمہ لیبر کے علاوہ حقوق اطفال کے لئے سرگرم تنظیموں کی مدد حاصل کی جا رہی ہے اور کوشش کی جار ہی ہے کہ معاشی ابتری کا شکار ہونے کے سبب بچہ مزدوری اختیار کرنے والوں میں شعور بیداری کے ساتھ ان کی مدد کی جائے۔