بے روزگاری میں اضافہ ، مستقبل قریب میں کمپنیوں میں مزید ملازمین کی تخفیف
حیدرآباد۔ ملک کی بیشترریاستو ںمیں لاک ڈاؤن کے سبب معاشی بدحالی اور بے روزگاری میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور نوجوان جو ملازمت پیشہ تھے ان کی ملازمتیں خطرہ میں پڑتی جا رہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں میں خانگی کمپنیوں کے انتظامیہ کی جانب سے اداروں کو خسارہ سے بچانے کیلئے اپنے ملازمین میں تخفیف کا فیصلہ کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ تین ماہ کے دوران کئی کمپنیوں اور اداروں میں ملازمین کی تخفیف کے اقدامات کئے جائیں گے ۔بتایاجاتا ہے کہ جن خانگی کمپنیو ںمیں سال گذشتہ لاک ڈاؤن کے دوران ملازمین کی کمی کے اقدامات کئے گئے تھے ان کمپنیوں میں بھی دوسرے مرحلہ کی تخفیف کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ کمپنیوں کو خسارہ سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب ہونے والے مالیاتی خساروں سے نمٹنے کے لئے مرکزی وریاستی حکومتو ںکی جانب سے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب بھی اداروں کے انتظامیہ میں بے چینی پائی جانے لگی ہے اور وہ حکومت کی جانب سے رعایتوں کے اعلان کے علاوہ معاشی پیاکیج کے اعلان کی توقع کررہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ ماہ اس سلسلہ میں صنعتی اداروں اور تجارتی اداروں کے مالکین اور ذمہ دارو ںکے اجلاس میں اس سلسلہ میں متفقہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کوسفارشات روانہ کی جائیں گی۔ ملک کی کئی ریاستو ںمیں لاک ڈاؤن کے دوران تجارتی اداروں ‘ دفاتر اور صنعتی اداروں کو بند رکھے جانے کے سبب جو نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان نقصانات کی پابجائی کیلئے ریاستی حکومتوں کی جانب سے غور نہ کئے جانے پر کہا جا رہاہے کہ ان حالات میں مرکزی حکومت اور مرکزی وزارت صنعت و تجارت سے نمائندگی کرتے ہوئے اداروں کو بند ہونے سے بچانے کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں روایتی تجارتی ادارو ںکے علاوہ ٹیکسٹائل ‘ لیدر‘ اسٹیل اور دیگر صنعتیں شامل ہیں جبکہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں کوئی گراوٹ ریکارڈ نہیں کی جا رہی ہے بلکہ کہا جا رہا ہے کہ ای۔ کامرس اور آن لائن کو حاصل ہونے والے فروغ کے سبب انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں آئندہ چند ماہ کے دوران مزید بہتری ریکارڈ کئے جانے کی توقع ہے اور اس شعبہ میں سرمایہ کاری بھی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔