لاک ڈاؤن کے باعث خانگی اسکولوں کا انتظامیہ پریشان حال

   

بعض حلقوں سے فیس معافی کا مطالبہ ، فیس ادا کردینے انتظامیہ کی اپیل
حیدرآباد ۔17 اپریل ( راست ) کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر جو لاک ڈاؤن لاگو کیا گیا ہے اس کی وجہ سے جہاں زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں وہیں تعلیم کا شعبہ بھی اس کی زد میں آیا ۔ اسکول جانے والے کروڑوں بچوں کی تعلیم پراثر پڑا ہے ۔ امتحانات کا شیڈول بھی تبدیل ہوگیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ خصوصاً راجدھانی حیدرآباد میں ہزاروں اسکول تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور لاک ڈاؤن کے باعث ان اسکولوں کی کارکردگی اور بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے عین امتحانات کے سیزن میں سارا نظام اتھل پتھل ہوگیا ہے ۔ اسکولوں کی آمدنی جو فیس اور امتحانی فیس کی شکل میں وصول ہوا کرتی ہے وہ رک گئی جس کے نتیجہ میں اسکولوں کا انتظامیہ پریشانی کا شکار ہے ۔ ان پر بلڈنگ کے کرایہ سے لے کر اسٹاف کی تنخواہوں ، بلوں کی ادائیگی وغیرہ کا بوجھ پڑگیا ہے جس کی پابجائی وہ بچوں سے وصول ہونے والی فیس سے کیا کرتے ہیں ۔ کارپوریٹ اسکولوں کو فیس کی وصولی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ شیخ پیٹ منڈل کے خانگی اسکولوں کے بعض نمائندوں کا کہنا ہے کہ جو حلقے فیس معاف کرنے کی بات کرتے ہیں ان کو اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے ، ایک تو وہ خود اپنے بچوں کی فیس ادا کرنا نہیں چاہتے ، دوسرے دیگر اولیائے طلبہ کو بھی منع کرتے ہیں ۔ اگر حکومت فیس معاف کرنے کیلئے کوئی ہدایات جاری کرتی ہے تو پھر حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ یا تو ان اسکولوں کو گرانٹ جاری کرے ، ان کے لائٹ اور نل کے بل معاف کرے اور اگر کرایہ کی عمارت ہے تو اسکول کی عمارتوں کا کرایہ ادا کرے یا ذاتی بلڈنگ ہے تو اس کا پراپرٹی ٹیکس معاف کردے ۔