مکانات اور دکانات بدترین تباہی کا شکار ، حکومت سے بلا سودی قرض کی اجرائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن نے ہمیں مشکلات میں مبتلاء کردیا تھا اور اب ہمارے حالات میں کچھ بہتری آرہی تھی کہ سیلاب نے ہمیں مکمل طور پر تباہ کردیا ہے جس کے سبب ہماری مکمل جمع پونجی بھی سیلاب کی نذر ہوگئی ہے اور اب کوئی کاروبار بھی نہیں رہا جس کے ذریعہ دوبارہ معیشت میں سدھار لانے کے لئے کوششوں کا آغاز کیاجاسکے۔ حیدرآباد کے سیلاب متاثرین جو اب تک اپنے مکانات کی صفائی اور اپنے مکانات میں سامان جمع کرنے میں مصروف ہیں ان کا کہناہے کہ ابھی وہ اپنے کاروبار کے متعلق سونچنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں کیونکہ ماہ مارچ کے بعد اب ستمبر سے حالات کچھ معمول پر آرہے تھے کہ سیلاب سب کچھ بہا کر لے گیا۔ شہر حیدرآباد کے جن علاقو ں میں سیلاب کے پانی نے تباہی مچائی ہے ان علاقو ںمیں جن کے کاروباری ادارہ و تجارتی مراکز موجود تھے وہ بھی مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں ۔سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گھریلو سامان کے حصول ‘ کپڑوں اور دیگر اشیاء کے حصول سے ان کی نئی زندگی شروع ہونے کے کوئی آثار نہیں ہے کیونکہ جن حالات کا سامنا انہیں کرنا پڑرہا ہے وہ انتہائی کربناک ہے کیونکہ دنیا جہاں کورونا وائرس کی وباء سے پریشان حال تھی اس دوران وہ بھی معاشی مشکلات کا شکار بنے رہے لیکن انہیں اس بات کا احساس تھا کہ جب ہر کوئی مشکلات میں مبتلاء ہے اور جس پریشانی کا سامنا وہ کر رہے ہیںکم و بیش اسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا سب کو ہے تو یہ احسا س تھا کہ وہ بھی سب کے ساتھ ہیں لیکن اب جو صورتحال سیلاب کے بعد پیدا ہوئی ہے وہ انتہائی ناگفتہ بہ ہے کیونکہ کورونا وائرس کے سبب تباہ ہونے والی معیشت سے ابھی سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ سیلاب نے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔ حافظ بابانگر کے سیلاب متاثر نے بتایا کہ ان کا مکان اور دکان دونوں ہی سیلاب کی نذر ہوگئی ہے اور ان حالات میں دوبارہ زندگی شروع کرنا ان کے لئے آسان نہیں ہے بلکہ وہ اس تذبذب میں مبتلاء ہیں کہ گرہستی کا آغاز کریں یا کاروبار کی شروعات کریں کیونکہ دونوں ہی مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔اسی طرح ایک خاتون خانہ نے بتایا کہ سیلاب کے سبب گھر میں ہونے والی تباہی غیر سرکاری و سیاسی مدد سے کچھ حد تک دور ہونے لگی ہے لیکن تجارتی تباہی کے سلسلہ میں کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے جو ان کے خاندان کو پریشان کئے ہوئے ہے۔سیلاب میں جن لوگوں کے تجارتی ادارہ اور کاروباری سرگرمیاں تباہ ہوئی ہیںوہ حکومت سے اس بات کی خواہش کر رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے فوری ان کی تجارتی سرگرمیوں کے احیاء کیلئے ایک لاکھ روپئے تک کے بلا سودی قرض کی اجرائی کے اقدامات کو یقینی بنایاجائے۔