لاک ڈاؤن کے دوران عصمت دری و گھریلو تشدد کے واقعات افسوسناک
نئی دہلی۔14 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں لاک ڈاؤن کے دوران جہاں گھریلو تشدد کے معاملات میں کوئی اضافہ نہیں ہواہے وہیں چھیڑچھاڑ، جنسی تشدد، پیچھا کرنے وغیرہ کے معاملات میں بھاری کمی دیکھی گئی ہے ۔دہلی خواتین کمیشن کی چیرمین سواتی مالیوال نے آج کہا کہ جرائم میں کمی آئی ہے لیکن یہ تشویشناک ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی کمیشن کو خواتین کے خلاف تشدد کے کچھ معاملات موصول ہو رہے ہیں، جن میں آبروریزی، بچوں کے جنسی تشدد، گھریلو تشدد اور سائبر جرم کے معاملے شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے دارالحکومت میں جرائم کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔کمیشن مطابق اغوا کے معاملات میں بھی 90 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے ۔ یہ پریشان کرنے والا ہے کہ ایسے المناک وقت میں بھی جب پورا ملک لاک ڈاؤن میں ہے اور کورونا کے خلاف لڑ رہا ہے ، عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری، گھریلو تشدد اور دیگر کے خلاف جرائم اب بھی ہو رہے ہیں۔ ہم اپنی ٹیم اور دہلی پولیس کی مدد سے تمام رپورٹ کیے گئے معاملات پر کام کر رہے ہیں۔ مالیوال نے کہا کہ دہلی خواتین کمیشن اپنی خاتون ہیلپ لائن اور ریپ کرائسس سیل کے ذریعے لاک ڈاؤن کے دوران چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے ۔ کمیشن کو لاک ڈاؤن کے دوران یومیہ تقریباً 1400 کال موصول ہو رہی ہیں۔ عورت پنچایت کی ٹیمیں راشن حاصل کرنے میں خواتین اور ان کے خاندانوں کی مدد کر رہی ہیں۔ مالیوال نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران، کمیشن کو 26 مارچ سے 31 مارچ کے درمیان سب سے زیادہ کالیں موصول ہوئی ہیں۔