لاک ڈاؤن کے دوران حیدرآباد میں دودھ کی فروخت میں 20 فیصد کی کمی

   

اضلاع میں سربراہی غیر متاثر، مضافاتی علاقوں سے دودھ کی منتقلی پر اثر

حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں دودھ کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق حیدرآباد میں دودھ کی فروخت 20 فیصد تک گھٹ چکی ہے۔ لاک ڈاؤن میں صرف 4 گھنٹوں کی نرمی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ۔ عام حالات میں حیدرآباد میں روزانہ 30 لاکھ لیٹر دودھ فروخت ہوتا ہے لیکن لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے 24 لاکھ لیٹر دودھ سربراہ کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع میں دودھ کی سربراہی کی مقدار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ ڈیری ڈیولپمنٹ کارپوریشن فیڈریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر جی سرینواس راؤ نے بتایا کہ دودھ کی مانگ میں کمی آئی ہے۔ عوام کو صرف چار گھنٹوں میں ضروری اشیاء کی خریدی میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں پر دودھ سربراہ کرنے والے افراد لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں اپنی خدمات کو بند کرچکے ہیں۔ شہر کے مضافاتی علاقوں سے حیدرآباد کو دودھ کی منتقلی بھی متاثر ہوئی ہے۔ محلہ کی سطح پر موجود ڈیریز میں کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے لیکن کئی ڈیری مالکین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے دودھ اور اس سے مربوط اشیاء کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ کئی ڈیریز کو شہر کے مضافاتی علاقوں سے دودھ کی سربراہی عمل میں آتی ہے جو لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں متاثر ہوئی ہے۔ شہر میں ہوٹلس، ریسٹورانٹس ، ٹی اسٹال، سوئیٹ شاپس اور دیگر غذائی آوٹ لیٹس بند ہیں جس کے نتیجہ میں دودھ کی فروخت پر برا اثر پڑا ہے۔ ڈیری مالکین نے سکریٹری اگریکلچر کو بتایا کہ دودھ کی فروخت میں 20 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مِلک پراڈکٹس کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی۔ تلنگانہ میں خانگی اور کوآپریٹیو ڈیریز کی جانب سے روزانہ 68 لاکھ لیٹر دودھ سربراہ کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹرا سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔