متعلقہ محکمہ جات میں سازباز سے بدعنوانی عروج پر ، حکومت کی فوری توجہ ضروری
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز) لاک ڈاؤن نے محکمہ جاتی سطح پر جاری رشوت کو بھی روک دیا ہے لیکن بعض محکمہ جات میں لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاکر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں محکمہ مال شامل ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران خدمات انجام دینے والے محکمہ جات میں محکمہ مال بھی کلیدی محکمہ ہے جسکے عملہ کو دفاتر میں حاضر رہنے کی تاکید کی گئی ہے اور دفاتر میں عوامی ہجوم نہ ہونے کے علاوہ اعلی عہدیداروں کی مصروفیات کا ملازمین فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بدعنوانیوں میں ملوث بلڈرس اور ناجائز قابضین کے وہ کام انجام دیئے جانے لگے ہیں جن کاموں کا کیا جانا ممکن نہیں تھا ۔ اب لاک ڈاؤن کے دوران جہاں اعلی عہدیدار مصروف ہیں تو ملازمین کی جا نب سے اراضیات پر ناجائز قبضہ جات کرنے والوں کے دستاویزات کو درست کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور انہیں درکار دستاویزات مہیا کروا رہے ہیں۔ شہر کے علاوہ نواحی علاقو ںمیں جاری رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں پر حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے بعد قدغن کی ضرورت ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران دستاویزات کی درستگی اور ان میں الٹ پھیر کے جو واقعات منظر عام پر آرہے ہیں ان کی جانچ ضروری ہے۔ شہر کے اطراف لاک ڈاؤن سے قبل ذخائر آب اور تالابوں کے شکم کی فروخت کو روکنے کے متعدد اقدامات کئے جاتے رہے ہیں اور کئی گوشوں کی جانب سے تالابوں اور ذخائر آب کی تباہی کو روکنے کیلئے مہم چلائی جاتی رہی ہے لیکن لاک ڈاؤن کے دوران شہر کے اطراف تالابوں میں مٹی ڈالتے ہوئے انہیں مسطح کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اور تالابو ںپر قبضہ کرنے والوں کی جانب سے محکمہ مال کے علاوہ آبپاشی کے عہدیداروں سے ساز باز اور اعلی حکام کی معاملتوں کی بنیاد پر ان کاموں کو انجام دیا جار ہاہے جو غیر قانونی ہیں لیکن محکمہ جاتی عہدیداروں کی جانب سے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت کا ناجائز قابضین کس طرح فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں لاک ڈاؤن کے دوران دو تالابوں کے شکم کو مسطح کردیا گیا اور اس بات کا علم محکمہ مال کے عہدیداروں کوبھی ہے لیکن وہ تماشائی بنے ہوئے ہیں لیکن تالابوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ دارو ں کا کہناہے کہ متعلقہ حکام کی خاموشی کے خلاف وہ عدالت سے رجوع ہونے سے گریز نہیں کریں گی اور لاک ڈاؤن کے بعد جائیدادوں کی نشاندہی کرکے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے علاوہ عہدیداروں کو تحریری شکایات بھی حوالہ کی جائیں گی۔
