لاک ڈاؤن کے دوران ملازمتوں سے محروم افراد کی حالت خستہ

   

تعلیم یافتہ نوجوان فوڈ ڈیلیوری یا کیاب چلانے پر مجبور ، حکومت کی جانب سے قرض کی فراہمی ناگزیر
حیدرآباد۔13 اگسٹ(سیاست نیوز) ملک میں ہونے والے دو لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگار ہونے والے نوجوانوں کی جانب سے اپنی ملازمتوں کے چلے جانے کے سبب چھوٹے اور معمولی کام کاج کئے جانے لگے ہیں ۔شہر حیدرآباد میں اساتذہ کے معمولی کام کرتے ہوئے اپنی گذر بسرکے واقعات منظر عام پر آنے لگے تھے لیکن اب وکلاء‘ انجنئیر‘سافٹ وئیر پروفیشنلس کی جانب سے بھی معمولی کام کاج کی تلاش تیز کردی گئی ہے اور کئی بڑی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے نوجوان اپنی ملازمتوں سے محرومی کے بعد Swiggy اور Zomato میں فوڈ ڈیلیوری کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور بعض نوجوانوں کی جانب سے گھرو ںمیں اشیاء خورد و نوش تیار کرتے ہوئے انہیں ان فوڈ ڈیلیوری ایپ کے ذریعہ فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں خدمات انجام دینے والے بعض وکلاء کیاب چلانے پر مجبور ہوچکے ہیں اور اس کے علاوہ جو لوگ لاک ڈاؤن سے قبل بیرون ملک اپنی ملازمتوں سے تعطیل حاصل کرتے ہوئے ملک واپس ہوئے تھے وہ اب معمولی کام کاج کرتے ہوئے اپنے گھر چلا رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کا انحصار ملازمت پر تھا وہ اپنی ملازمتوں کے چلے جانے کے سبب پریشان ہیں اور جن لوگوں کا انحصار تجارت پر تھا وہ لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والے تجارتی نقصانات کی پابجائی کے لئے پریشان ہیں ۔پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے کئی تعلیم یافتہ نوجوان موجودہ حالات میں ملازمت کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں لیکن روزمرہ کے اخراجات کی تکمیل کے لئے وہ معمولی کام کاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔شہر حیدرآبا دمیں بے روزگار نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے خدمات انجام دینے والی کوئی تنظیم نہ ہونے کے سبب ان کی رہنمائی بھی ممکن نہیں ہوپارہی ہے لیکن بعض آئی ٹی کمپنیو ںکی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی کے سبب چند ایک نوجوان گھر سے کام کاج کے رجحان سے استفادہ کر رہے ہیں لیکن بڑی تعداد میں نوجوان جو بیروزگاری کا شکار ہوئے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں کی فراہمی یا تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کے لئے راست قرضہ جات کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا بے انتہاء ضروری ہے۔